امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماسکو کے کیف پر اب تک کے سب سے بڑے حملے کے بعد کہا ہے کہ یوکرین میں روسی صدر کے اقدامات سے مطمئن نہیں ،مجھے نہیں معلوم ، پیوٹن کو کیا ہو گیا ہے، پیوٹن شہروں پر راکٹ برسا کر لوگوں کو مار رہا ہے۔ٹرمپ نے ایک مذمتی بیان میں کہا کہ اسے کیا ہو گیا ہے وہ بہت سے لوگوں کو مار رہا ہے پیوٹن بالکل پاگل ہوچکا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران شہروں پر راکٹ داغنا مجھے بالکل پسند نہیں روس پر مزید پابندیاں لگانے پر غور کر رہا ہوں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس سے قبل کہا تھا کہ حالیہ روسی حملوں پر واشنگٹن کی خاموشی پیوٹن کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے انہوں نے ماسکو پر سخت دباؤ اور مزید سخت پابندیاں گانے کی اپیل کی تھی۔امریکی صدر اس سے پہلے بھی کئی بار روس کو پابندیوں میں اضافے کی دھمکی دے چکے ہیں لیکن اب تک ماسکو کے خلاف کوئی نئی پابندیاں نافذ نہیں کی گئیں۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ پیوٹن بالکل پاگل ہو چکا ہے میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ وہ صرف یوکرین کا ایک حصہ نہیں بلکہ پورا ملک چاہتا ہے اور شاید یہ بات درست ثابت ہو رہی ہے لیکن اگر اس نے ایسا کیا تو یہ روس کے زوال کا باعث بنے گا۔ واضح رہے کہ اس وقت روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے، اس میں کریمیا بھی شامل ہے، یوکرین کا یہ جنوبی جزیرہ نما ماسکو نے 2014 میں ضم کر لیا تھا۔