لاس اینجلس کا احتجاج دیگر امریکی ریاستوں میں پھیلنا شروع

امریکہ میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر ردعمل جاری ہے اور لاس اینجلس میں چوتھے روز بھی احتجاج کی شدت برقرار رہی جب کہ مظاہروں کا دائرہ منگل کو ریاست ٹیکساس کے شہروں ڈلاس اور آسٹن تک جا پہنچا۔کیلیفورنیا کے دیگر علاقوں میں بھی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں جن میں لاس اینجلس کے جنوب مشرق میں واقع سانتا آنا اور ساحل کنارے واقع سان فرانسسکو شامل ہیں جہاں اتوار کے روز تقریباً 150 افراد کو گرفتار کیا گیا۔نیو یارک سٹی پولیس نے بتایا کہ انہوں نے بھی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے خلاف مظاہروں میں متعدد افراد کو گرفتار کیا جنہوں نے پیر کے روز وفاقی عمارتوں کے سامنے گاڑیوں کا راستہ روکا تھا۔اسی طرح کے مظاہرے پیر کے روز لوئس ویل اور کینٹکی بھی ہوئے۔امریکہ کی شمالی فوجی کمانڈ نے بتایا ہے کہ لاس اینجلس میں جاری اس کارروائی کو ٹاسک فورس 51 کا نام دیا گیا ہے جس میں تقریباً 2100 نیشنل گارڈ اور 700 فعال میرینز شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تمام اہلکاروں کو حالات پر قابو پانے اور ہجوم کی نظم و نسق اور طاقت کے استعمال کے اصولوں پر تربیت دی گئی ہے۔

Los Angeles protests begin to spread to other US states

اپنا تبصرہ لکھیں