ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اسرائیل پر میزائل حملوں کی 12ویں لہر میں پہلی بار بھاری اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے سَجّیل میزائل استعمال کیے گئے جنہوں نے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔ ایران کے مطابق ان حملوں نے اسرائیلی دفاعی نظام کو تباہ کر دیا ہے اور اب مقبوضہ علاقوں کی فضائیں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے لیے کھلی ہیں۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جمعرات کی صبح اسرائیل پر متعدد بیلسٹک میزائل فائر کیے جس کے نتیجے میں اب تک 30 لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کے بعد تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں دھماکے سنےگئے ہیں۔اسرائیلی ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ تل ابیب میں گش دان اور صحرائے نقب سمیت کم از کم 4 علاقوں میں 6 میزائل گرنے کی اطلاع ملی ہے اور صحرائے نقب میں عمارت پر براہ راست میزائل ٹکرایا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے کئے جانے والا یہ سب سے بٹا حملہ ہے اسرائیلی میڈیا کے مطابق جمعرات کی صبح ہونے والے حملہ میں کم از کم سات متاثر ہونے والے مقامات کی اطلاعات ہیں جن میں تین گش دان اور ایک بیئر شیوا کے سوروکا ہسپتال میں شامل ہیں.اسرائیلی ریسکیو حکام کے مطابق یر السبع میں ساروکا اسپتال پر میزائل ٹکرایا ہے جس سے بڑی تباہی ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ صبح ہونے والے ایرانی میزائل حملوں میں اسرائیلی فوجی کمانڈ اور انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر اورانٹیلی جنس کیمپ کو نشانہ بنایا ہے جبکہ ساروکا اسپتال کو فوجی مراکز کے واقع قریب ہونے کی وجہ سے جزوی نقصان ہوا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی میزائل حملہ حالیہ حملوں سے زیادہ بڑا تھا اور ابھی نقصانات کی تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق، آپریشن ٹرو پرامس 3 کی 12ویں لہر میں انتہائی بھاری سَجّیل میزائل استعمال کیے گئے. جن کا ہدف مقبوضہ علاقوں میں موجود متعدد مقامات تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’میزائل حملے مسلسل اور مرکوز رہیں گے۔اسرائیلی فوج کے سنسر شپ یونٹ کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل کوبی مینڈلبلٹ نے ایک ہنگامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت وہ تمام اشاعتیں ممنوع قرار دی گئی ہیں جو ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں دشمن کو پیغام دے سکتی ہیں عوام میں اشتعال پھیلا سکتی ہیں یا قومی مورال کو کمزور کر سکتی ہیں، چاہے وہ سوشل میڈیا پر ہی کیوں نہ ہوں۔
