مخصوص نشستوں کا کیس تحریک انصاف مخصوص نشستوں سے محروم

سپریم کورٹ نے 6 کے مقابلے میں 7 کی اکثریت پر نظر ثانی درخواستیں منظور کر لیں اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس میں اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہوئے اور ان دلائل کے ساتھ ہی مخصوص نشستوں نظر ثانی کیس کی سماعت مکمل ہوگئی۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے مختصر فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے 6 کے مقابلے میں 7 کی اکثریت پر نظر ثانی درخواستیں منظور کر لیں اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔اس سے قبل کیس سننے والے آئینی بینچ کے 11 ججوں میں شامل جسٹس صلاح الدین پنہور نے کیس سننے سے معذرت کرلی جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ حامد خان ایڈووکیٹ نے ان پر اعتراض کیا عوام میں جج کی جانبداری کا تاثر جانا درست نہیں ہے اس لیے بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا۔بینچ ٹوٹنے کے بعد آئینی بینچ نے وقفہ کیا اور 10 ججوں کے ساتھ دوبارہ سماعت شروع کی جبکہ حامد خان ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ 13 ججوں کے فیصلے پر نظر ثانی 10 جج نہیں کر سکتے۔سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواستوں پر آج 17ویں سماعت تھی، سپریم کورٹ کے 13 رکنی فل کورٹ نے 12 جولائی 2024 کو 8 ججز کی اکثریت سے نشستیں پی ٹی آئی کو دیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ مختصر آرڈر میں ہم اتنا ہی کہتے ہیں وجوہات بعد میں دیں گے سپریم کورٹ میں جولائی 2024 میں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور اگست میں الیکشن کمیشن نے نظر ثانی درخواستیں دائر کیں۔ سپریم کورٹ کے 13 رکنی آئینی بینچ میں 6 مئی کو نظرثانی درخواستیں مقرر کیں۔

Reserved seats case PTI deprived of reserved seats

اپنا تبصرہ لکھیں