حکومت کا ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنےکا فیصلہ

وفاقی کابینہ نے پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے دیذرائع کا کہنا ہےکہ ریگولیٹری اتھارٹی ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی کے لیے لیگل فریم ورک پیش کرےگی ریگولیٹری اتھارٹی خود مختار ادارے کے طور پرکام کرے گی۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بلاک چین اور کرپٹو کے آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق تجویز کردہ اتھارٹی ایک خودمختار ریگولیٹر کے طور پر کام کرے گی جو ورچوئل اثاثہ جات سروس فراہم کنندگان کو لائسنس جاری کرنے ، نگرانی کرنے اور مانیٹر کرنے کے ساتھ ساتھ ایف اے ٹی ایف کے رہنما اصولوں اور بین الاقوامی بہترین روایات کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنائے گی۔اتھارٹی کا دائرہ کار عوامی تحفظ، منی لانڈرنگ سے بچاؤ، اور سائبر خطرات کی روک تھام تک وسیع ہوگا، خودمختار اثاثہ جات، اضافی توانائی کے استعمال، اور مضبوط ریگولیشن کا یہ مشترکہ ماڈل جنوبی ایشیا میں پاکستان کو ایک ڈیجیٹل اثاثہ جاتی مرکز بنانے کے قومی عزم کا اظہار ہے۔اعلامیہ کے مطابق پاکستان چار کروڑ سے زائد کرپٹو صارفین اور سالانہ تین سو ارب ڈالر کی غیر رسمی ٹریڈنگ والی ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ بن چکا ہے اگرچہ پہلے ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال تھی پاکستانی نوجوانوں نے بلاک چین ٹیکنالوجی کو جلدی اپنایا جن میں سے 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے۔

Government decides to establish regulatory authority to monitor digital assets

اپنا تبصرہ لکھیں