عارضی جنگ بندی اور امریکہ و ایران کے مذاکرات پر خدشات

سراج احمد
مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا تھا جہاں ہر فریق اپنے سخت ترین مؤقف کے ساتھ ڈٹا ہوا تھا ہر گزرتا لمحہ جنگ کو خطے میں پھیلنے کے مزید قریب لا رہا تھا۔ دنیا پر معاشی دباؤ بڑھتا جا رہا تھا خاص طور پر توانائی کا بحران ایک سنگین صورت اختیار کررہا تھا دنیا آبنائے ہرمزمز بند ہونے کی بھاری قیمت ادا کررہی تھی ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر تباہ کن حملے تھے دوسری جانب ایران کے میزائل اور ڈرون اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں تباہی مچا رہی تھے دنیا خوفزدہ تھی کہ مختلف ممالک میں ایران کی پراکسی بھی فعال ہونا شروع ہوگئی تھی امریکی صدر ڈولڈ ٹرمپ کی ایران کی تہزیب کو مکمل ختم کرنے کی دھمکی اور ایران کی مشرق وسطیٰ کو تباہ کرنی کی دھمکیوں سے دنیا پریشان تھی پھر اچانک پاکستان کی سفارتی کوشیشوں نے معاملہ پلٹ دیا اور دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی اور امریکہ و ایران کی مزاکرات پر آمادگی نے دنیا میں بھی عارضی سکون پیدا کردیا یہ عارضی جنگ بندی کیسے ہوئی اور دونوں فریق کیسے آمادہ ہوئے یہ ہے
یہ کہانی کسی عام جنگ بندی کی نہیں بلکہ ایک ایسے لمحے کی ہے جب دنیا واقعی سانس روک کر کھڑی تھی۔منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو پاکستان میں تین بج کر بتیس منٹ کاوقت تھا جبکہ واشنگٹن میں شام کے چھ بج کر بتیس منٹ ہوئے تھےاور ایران میں رات کے دو بج کر دو منٹ کا وقت تھا .ڈولڈ ٹرمپ کی ایران کو دی جانے والی ڈیڈ لائن کے ختم ہونے میں صرف ایک گھنٹہ اور اٹھائیس منٹ باقی تھے جس میں انہوں ے دھمکی دی تھی کہ آج رات پوری ایرانی تہذیب ختم ہو جائے گی.یہ کوئی عام بیان نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسا جملہ تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ٹرمپ بار بار یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جائےورنہ ایران کو پتھر کے دور میں واپس دھکیل دیا جائے گا.دنیا خوف میں مبتلا تھی.تجزیہ کار اندازے لگا رہے تھے .اور ہر کوئی یہی سوچ رہا تھا کہ اب اگلا قدم کیا ہوگا.کیا امریکہ کوئی بڑا حملہ کرنے جا رہا ہے امریکہ میں ایٹمی ہتھیار سے حملے کرنے والے طیاروں نے آزمائشی پروازیں شروع کردیں تھیں تاہم وائٹ ہاؤس نے ایران پر کسی بھی ایٹمی حملے کے منصوبے کی تردید کی تھی اس صورتحال میں دنیا اس خدشے کا شکار تھی کہ کیا خطے میں ایک تباہ کن جنگ شروع ہونے والی ہے.اسی بے یقینی کے عالم میں عین اس لمحےپاکستانی وقت کے مطابق تین بج کر بتیس منٹ پرڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ سامنے آتی ہے دنیا دم سادھے آنے والے وقت کا انتظار کر رہی تھی کہ امریکی صدر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل سے ایک پوسٹ کی گئی اور یہیں سے صورت حال بدل گئی ۔اس پوسٹ میں دو ہفتے کی مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا گیا .ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر میں دو ہفتوں کی مدت کے لیے ایران پر بمباری اور حملوں کو معطل کرتا ہوں۔امریکی صدر کی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ جنگ بندی دو طرفہ ہو گی۔ ٹرمپ نے یہ واضح بھی کیا کہ یہ فیصلہ شہباز شریف اورعاصم منیرسے ہونے والی گفتگو کے بعد کیا گیا ہے۔
یعنی وہی پاکستان جو اس پوری کشیدگی میں خاموشی سے سفارتی کوششیں کر رہا تھا اب اچانک مرکز میں آ جاتا ہے۔ جس وقت دنیابھر کا میڈیا یہ کہہ رہا تھا کہ مذاکرات ڈید لائن کا شکار ہوگئے ہیں اور کوئی بھی فریق پیچھے ھٹنے کو تیار نہیں ہے . اس موقع پر صدر ٹرمپ مزید کہتے ہیں کہ پاکستان نے ان سے درخواست کی کہ وہ آج رات ایران پر حملہ نہ کریں.اور اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ ہو جائے۔
یہ ایک ڈیل تھی.ایک نازک توازن تھا جنگ اور امن کے درمیان۔ٹرمپ اپنی پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکہ اپنے فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے.اور اب ہم ایک طویل المدتی امن معاہدے کے قریب ہیں .وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے.جسے وہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد سمجھتے ہیں۔دوسری طرف اسرائیل نے نیم دلی سے اس فیصلے کی حمایت تو کی ہے .لیکن ساتھ ہی واضح کرتا ہے کہ یہ جنگ بندی ہر محاذ پر لاگو نہیں ہوگی خاص طور پر لبنان میں صورتحال مختلف رہ سکتی ہے۔اسرائیل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گی ہے کہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کرتا ہے کہ ایران اب امریکہ، اسرائیل اور اس کے عرب پڑوسیوں اور دنیا کے لیے جوہری، میزائل اور دہشت گردی کا خطرہ نہ بن سکے۔بیان کے مطابق امریکہ نے اسرائیل کو بتایا ہے کہ مذاکرات کے دوران ان مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہاں میں آپ کو بتا تا چلو کہ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔اس کے پیچھے ایک طویل اور پیچیدہ عمل تھا.اس سے پہلے شہباز شریف نے کھل کر اپیل کی تھی کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی جائے تاکہ سفارتکاری کو موقع مل سکے۔انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست درخواست کی کہ ڈیڈ لائن میں توسیع دی جائے۔ساتھ ہی ایران سے بھی کہا گیا کہ وہ نیک نیتی کے طور پر آبنائے ہرمز کھول دے۔ ایران جنگ بندی پر شکوک کا شکار تھا اس کا مؤقف تھا کہ یہ ممالک ایران پر مزید حملوں کے لئے وقت حاصل کرنا چاہ رہے ہیں.اس موقع پر ایران کو آمادہ کرنے کے لئے چین نے بھی کردار ادا کیا جس کا امریکی صدر نے بھی ذکر کیا ہے یہ ایک مشکل مرحلہ تھا خاص طور پر ایران جنگ بندی پر ایران کو اعتماد دینا .لیکن پاکستان نے یہ کردار ادا کیا۔اور پھرایران کی جانب سے ایک بڑا اعلان سامنے آیا ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ ایران دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہے .بشرطیکہ ایران کے خلاف حملے روکے جائیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں خاص طور پرشہباز شریف اور عاصم منیرکا شکریہ ادا کیا وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے جنگ کے خاتمے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔
یہ ایک غیر معمولی لمحہ ہے جہاں ایک بڑی علاقائی طاقت کھل کر پاکستان کے کردار کو سراہ رہی تھی۔ادھر ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل بھی اعلان کیا ہے کہ اگر حملے رُک جاتے ہیں تو ایران بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دے گا۔یہ سب کچھ ایک نرم ماحول میں نہیں ہوا.اس سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے تھے۔ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے اسرائیلی شہروں اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہے تھے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سخت سے سخت ترین ہوتے جا رہے تھے اور ایران کے جوابی بیانات بھی اسی شدت کے ساتھ آ رہے تھے.اور ایسا لگ رہا تھا کہ مذاکرات مکمل ڈیڈ لاک کا شکار ہو چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کا دباؤ اور عالمی سطح پر بڑھتا ہوا خوف یہ سب مل کر فریقین کو ایک ایسے مقام پر لے آئے جہاں جنگ جاری رکھنا ممکن تو تھا لیکن خطرناک حد تک مہنگا بھی ہو چکا تھا۔اور پھریہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک وقفہ لیا جائے اور ایک موقع دیا جائےاور یوں جنگ بندی سامنے آئی۔اب اگلا مرحلہ اس سے بھی زیادہ نازک اور اہم ہے .اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلے گا اس کا تو ابھی انتظار کرنا ہوگا ا.طلاعات کے مطابق یہ مذاکرات 10 نکاتی ایجنڈے پر ہوں گے.اور کم از کم 15 دن جاری رہیں گے تاہم ان مزاکرات کی مدت اور عارضی جنگ بندی میں توسیع بھی ممکن ہے . اطلاعات کے مطابق ان نکات میں خطے میں جنگوں کا خاتمہ، ایران سے پابندیوں کا خاتمہ،ایرانی اثاثوں کی واپسی،آبنائے ہرمز کی مکمل بحالیاور ایک طویل المدتی امن کا فریم ورک پر بات چیت ہوگی.
اس موقع پر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر عارضی جنگ بندی اور مذاکرات پر کس کو اخلاقی فتح ہوئی .ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے میدانِ جنگ میں برتری حاصل کی ہے اور امریکہ اس کے کئی مطالبات ماننے پر مجبور ہوا ہے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ چالیس دنوں میں ایرانی عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے اور جنگ کے بیشتر اہداف حاصل ہو چکے ہیں۔
بیان کے مطابق ایران نے ابتدا سے ہی فیصلہ کیا تھا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دشمن کو پچھتاوے اور مایوسی کی کیفیت میں نہ پہنچا دیا جائے اور ملک کے خلاف طویل المدتی خطرات ختم نہ ہو جائیں۔بیان میں کہا گیا کہ ایران نے امریکی صدر کی جانب سے دی گئی متعدد ڈیڈ لائنز کو مسترد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ دشمن کی کسی بھی مہلت کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ جبکہ امریکہ یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے.لیکن حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں ہے.بظاہر یہ جنگ بندی کسی ایک کی جیت نہیں ہے بلکہ ایک ایسے لمحے کا نتیجہ ہے جہاں سب کو احساس ہو گیا کہ اگر ایک قدم اور آگے بڑھا تو واپسی ممکن نہیں رہے گی۔اب دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ہیں کئی سوالات ابھی جواب کے منتظر ہیں کیا یہ مذاکرات واقعی امن لے آئیں گے.یا یہ صرف ایک وقفہ ہے ایک بڑے طوفان سے پہلے.یہ تو صرف ایک نیا باب شروع ہوا ہے۔اصل سوال اب بھی باقی ہیں.کیا یہ جنگ بندی مستقل امن میں بدل سکے گی.کیا بمباری ،میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد اعتماد بحال ہو سکے گا اور کیا یہ مذاکرات کسی دیرپا حل تک پہنچ سکیں گے.یہ خاموشی،یہ وقفہ شاید ایک نئے امن کی شروعات ہو یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ کیا یہ ایک بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی تو نہیں ہے فیصلہ ابھی باقی ہے.

اپنا تبصرہ لکھیں