پاکستان کے پہلے انفلوئنسر ایوارڈز کا انعقاد

سوشل میڈیا انفلوئنسر اور کانٹینٹ کریئیٹرز کی محنت کو سراہنے کے لیے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان انفلوئنسر ایوارڈزکا انعقاد کیا جا رہا ہے۔تقریب کی میزبانی کے فرائض مشہور اور ہر دلعزیز وی لاگ پتن گیر سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والی جوڑی امتل باویجا اور فہد طارق کے سپرد کیے گئے ہیں اس ایوارڈ تقریب میں ملک بھر کے سوشل میڈیا کریئیٹرز اور انفلوئنسرز کو ان کی صلاحیتوں اور تخلیقی کام پر اعزازات دیے جائیں گے انسٹاگرام پر اپنے مداحوں کے ساتھ یہ خوشخبری شیئر کرتے ہوئے امتل باویجا نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ وہ پچھلے آٹھ سالوں سے اس فیلڈ سے جڑے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شروع میں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن وہ اسی ڈیجیٹل کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کے پہلے انفلوئنسر ایوارڈز کی میزبانی کریں گے۔یہ رنگارنگ تقریب رواں سال 7 نومبر کو منعقد ہوگی جس میں 30 سے زائد مختلف کیٹیگریز میں انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔ ان میں یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کے لیے کریئیٹر آف دی ایئر اور ایمرجنگ کریئیٹر کے خصوصی ایوارڈز شامل ہیں۔ان ایوارڈز کے انعقاد کا بنیادی مقصد پاکستان میں کانٹینٹ کریئیشن کے شعبے کو مزید مضبوط بنانا اور ڈیجیٹل کریئیٹرز کے کام کو ایک باقاعدہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ایوارڈز کے چیف کیوریٹر طلحہ اسلم کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا وژن ایک ایسا صحت مند اور مسابقتی ماحول بنانا ہے جہاں پاکستانی کانٹینٹ انڈسٹری عالمی معیار کے مطابق ترقی کر سکے اور اس کے لیے کچھ بنیادی اصول طے کیے جا سکیں۔منتظمین کے مطابق کامیاب امیدواروں کے انتخاب کے لیے ایک خاص طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ سب سے پہلے ہر کیٹیگری کے ابتدائی 20 امیدوار الگورتھم کی مدد سے منتخب کیے جائیں گے جبکہ ان نتائج کی تصدیق مارکیٹ سروے کے ذریعے کی جائے گی۔اس کے بعد معروف کانٹینٹ کریئیٹرز پر مشتمل جیوری 20 امیدواروں میں سے 10 افراد کا انتخاب کرے گی۔ دوسرے مرحلے میں مارکیٹنگ اور اشتہارات کے شعبے کے ماہرین پر مشتمل جیوری ان امیدواروں میں سے پانچ فائنلسٹس منتخب کرے گی۔کامیابی کا حتمی نتیجے کا فیصلہ عوام کریں گے .

اپنا تبصرہ لکھیں