جنوبی کوریا کی جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو مذاکرات کی پیشکش

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے.جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شمالی کوریا کو 1953 کی جنگ بندی کو باضابطہ امن معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو دھمکانے کے ارادے ترک کرکے مستقل امن کی طرف بڑھنا چاہیے۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 1950 میں شروع ہونے والی جنگ جولائی 1953 میں عارضی جنگ بندی معاہدے سے رک گئی تھی۔ مستقل جنگ بندی نہ ہونے کے باعث دونوں ملک قانونی طور پر آج بھی حالتِ جنگ میں ہیں۔شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان جنگ میں لگ بھگ 30 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے.صدر لی جے میونگ نے یہ بات جزیرہ نما کوریا کی جاپانی تسلط سے آزادی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔لی جے میونگ نے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔ یہ جنگ امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی کے ذریعے رکی تھی اور آج تک دونوں فریقوں کے درمیان باضابطہ امن معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ان کی تازہ اپیل گزشتہ سال کیے گئے اس عزم کی توسیع ہے جس میں انہوں نے شمالی کوریا میں رائج نظام کا احترام اور پیانگ یانگ کے ساتھ پرامن تعلقات کی کوشش کرنے کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ کوریا دوسری جنگِ عظیم میں جاپان کی شکست کے بعد 15 اگست 1945 کو جاپانی تسلط سے آزاد ہوا تھ اسی آزادی کی یاد میں ہر سال 15 اگست کو شمالی اور جنوبی کوریا میں یومِ آزادی منایا جاتا ہے۔آزادی کے بعد فوراً بعد ہی دونوں کوریائی ریاستوں کے درمیان جغرافیے اور نظریات کی بنیاد پر اختلافات نے جنم لیا تھا۔ 25 جون 1950 کو شمالی کوریا کی کمیونسٹ افواج کی جانب سے جنوبی کوریا پر حملے کے باقاعدہ سرد جنگ شروع ہوگئی جسے کورین وار کہا جاتا ہے۔دوسری جانب شمالی کوریا اس سے قبل بھی صدر لی جے میونگ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر چکا ہے۔ پیانگ یانگ حال ہی سیئول کی امریکا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کو اشتعال انگیزی اور جنوبی کوریا کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیتا آیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں