امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ اگر غزہ سے تمام اسرائیلی یرغمالی رہا نہ کیے گئے تو علاقے کو جہنم بنا دیں گے اگر ہفتے کی دوپہر تک ہر اسرائیلی یرغمالی رہا نہ ہوا تو اسرائیل سے جنگ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کروں گا۔واضح رہے کہ پیر کو اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر حماس نے یرغمالیوں کی رہائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی تھی. ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک میرا تعلق ہے اگر تمام یرغمالیوں کو ہفتے کی رات 12 بجے تک واپس نہ لایا گیا تو میرے خیال میں یہ مناسب وقت ہوگا کہ ہم امن معاہدہ منسوخ کردیں اور تمام شرائط ختم کر دیں پھر جو کچھ ہوگا سو ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ قطر، امریکا اور مصر کی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت غزہ میں 15 ماہ سے جاری جنگ بند ہوئی .ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہفتے کو اسرائیلی وزیراعظم سے بھی بات کروںگا ۔ اردن اور مصر نے فلسطینیوں کو نہیں بسایا تو ان کی امداد بند کردیں گے ۔ امید ہے اردن مان جائے گا۔ امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اردن کے شاہ عبد اللہ کی ان سے ملاقات طے ہے مصر اور اردن جبری طور پر بے گھر کیے جانے والے فلسطینیوں کو قبول کرنے کے منصوبے کو پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں فلسطینیوں کو واپس آنے کا حق نہیں دیں گے ۔ مکمل کنٹرول سبنھالیں گے ۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ غزہ کے باہر فلسطینیوں کے لیے چھ مقامات ہوں گے اور منصوبے کے تحت انہیں غزہ واپس آنے کا حق حاصل نہیں ہوگا کیونکہ انہیں اس سے بہتر قیام گاہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اگر واپس آنا چاہیں بھی تو انہیں کئی سال لگ جائیں گے کیونکہ اس وقت غزہ رہنے کے قابل نہیں ہے۔حماس کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو مؤخر کرنے کے ارادے کے اعلان کے بعد اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ جنوبی کمانڈ میں لڑاکا فوجیوں اور آپریشنل یونٹوں کی چھٹیاں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے .حماس کی جانب سے معاہدے پر عمل مؤخر کرنے پر تل ابیب میں اسرائیلی یرغمالیوں کےلواحقین سڑکوں پر آگئے۔ اسرائیلی حکومت سےجنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کردیا۔