زندہ مصطفیٰ کو گاڑی میں بند کرکے آگ لگائی. ملزم کا رونگھٹے کھڑے کر دینے والا انکشاف

کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری سے لاپتہ نوجوان مصطفیٰ عامر کی 38 روز بعد لاش ملنے کے بعد قتل کیس میں مزید رونگھٹے کھڑے کر دینے والا انکشافات سامنے آگئے. شریک ملزم شیراز نے دوران تفتیش رونگھٹے کھڑے کردینے والا انکشاف کردیا۔ملزم شیراز کے مطابق مصطفیٰ کو قتل کے بعد نہیں جلایا بلکہ زندہ کو ہی آگ لگائی تھی.واضح رہے کہ مقتول مصطفیٰ عامر، ملزم ارمغان اور شیراز تینوں دوست ہیں اور انہوں نے پہلی سے ساتویں جماعت تک ایک ساتھ تعلیم حاصل کی تھی ملزم شیرازنے انکشاف کیا کہ نئے سال کے موقعے پر دوستوں کے درمیان لڑائی ہوئے تھی۔ملزمان کے بیانات کے مطابق چھ جنوری کی رات کو جب مصطفیٰ عامر، ملزم ارمغان کے گھر گئے تو نئے سال پر ہونے والی لڑائی کا ایک بار دوبارہ تذکرہ ہوا اور دوبارہ لڑائی ہوگئی. ابتدائی تحقیقات کے مطابق مصطفیٰ کے قتل کی وجہ لڑکی کا معاملہ نکلا ارمغان نے مقتول کو بہانے سے گھر بلوای، گھر بلوانے کے بعدارمغان اور شیراز نے لوہے کی راڈ سے تین گھنٹے تشدد کیا مصطفیٰ کے نیم بے ہوش ہونے کے بعد منہ پر ٹیپ باندھ دیا ۔ملزمان مصطفیٰ کو نیم بےہوش کرنے کے بعد اس کی ہی گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر لے گئے۔مصطفی کو لے کر شیراز اور ارمغان کیماڑی سے حب پہنچے، دھوراجی سے 2 کلو میٹر دورپہاڑی کے قریب گاڑی روکی۔ملزمان نے ڈگی کھولی تو اسوقت تک مصطفیٰ زندہ تھا دونوں ملزمان نے ڈگی میں پڑے مصطفیٰ پرپیٹرول چھڑکا دونوں نے دور کھڑے ہوکر لائٹر جلا کر مصطفی پر پھینکا۔ شیراز نے بتایا کہ آگ لگانے کے بعد دونوں تین گھنٹے پیدل چلتے رہے راستے میں کسی گاڑی والے نے لفٹ نہیں دی سوزوکی والے کو دو ہزار روپے دیکر دونوں فورکے چورنگی پہنچے فور کے چورنگی پہنچے کے بعد رکشہ کے ذریعے ڈیفنس اور وہاں سے ٹیکسی میں گھر پہنچے.سی آئی اے کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے مطابق مقدمہ آگے بڑھا تو مرکزی ملزم ارمغان کے دوست اور مقتول کے مشترکہ دوست شیراز عرف شاویز بخاری کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے پولیس کو اس کیس کے متعلق تمام پہلو اور کرائم سین سے لاش کو ٹھکانے لگانے کی معلومات ملی اور اس نے پولیس کو جو کچھ بتایا، وہی ارمغان کے ان دو ملازمین نے بھی بتایا، جنہیں پولیس نے تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا . واضح رہے کہ ایک لاوارث گاڑی جلنے کے واقعے پر حب کے دھوراجی تھانے میں مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا جبکہ دھوراجی پولیس نے لاش کو ایدھی کے حوالے کیا جسے لاوارث لاش کے طور پر دفنا دیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق لاش کا ڈی این اے ٹیسٹ کرکے اس بات کی تصدیق کریں گے کہ یہ لاش مصطفیٰ عامر کی ہی ہے۔ یاد رہے آٹھ فروری کو پولیس اور سی پی ایل سی نے مشترکہ طور پر ڈی ایچ اے کے ایک گھر پر چھاپہ مارا جس کے دوران ملزم نے پولیس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈپٹی انسپکٹر پولیس احسن ذوالفقار اور سپاہی زخمی ہوئے تاہم پولیس نے ملزم ارمغان کو گرفتار کرلیا ملزم ارمغان کے گھر سے پولیس کو بڑی تعداد میں قیمتی اسلحہ ،54 لیپ ٹاپ بھی ملے معلوم ہوا ہے کہ ملزم ارمغان کال سینٹر چلاتا تھا جبکہ ملزمان منشیات سپلائی کا کام بھی کرتے تھے

The accused revealed that Mustafa was not burnt after the murder but was set on fire while he was still alive

اپنا تبصرہ لکھیں