امریکی کابینہ کے اجلاس میں جمعرات کے روز اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وہائٹ ہاؤس کے مشیر ایلون مسک کے درمیان محکمہ خارجہ میں عملے کی کمی کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کابینہ اجلاس میں صدر ٹرمپ کی موجودگی میں ایلون مسک نے مارکو روبیو پر کڑی تنقید کی۔مسک جو صدر ٹرمپ کی ہدایت پر وفاقی بیوروکریسی میں کمی کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں انہوں نے روبیو پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عملے میں نمایاں کمی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مسک نے روبیو سے کہا کہ انہوں نے کسی کو برطرف نہیں کیا شاید واحد شخص جسے انہوں نے نکالا ہو وہ محکمہ گورنمنٹ ایفیشنسی کا کوئی ملازم ہو جو میرے ماتحت کام کرتا ہے۔جس پر امریکی وزیرخارجہ روبیو نے جواب دیا کہ مسک سچ نہیں بول رہے محکمہ خارجہ کے 1500 ملازمین نے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لی ہے اور پھر انہوں نے طنز کیا کہ کیا انہیں واپس بلا کرنوکری سےنکال کردکھاؤں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس دوران بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مشاہدہ کرتے رہے تاہم تلخی بڑھنے پر ان کو مداخلت کرنی پڑی . صدرٹرمپ کی بروقت مداخلت کام کرگئی اورانہوں نے کہا کہ اسٹاف رکھنے سے متعلق حتمی اختیار مسک نہیں وزرا کا ہے۔مسک کا ڈوج ادارہ صرف ایڈوائزری کردارادا کرےگا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ اجلاس اس وقت بلایا گیا جب مختلف محکموں کے سربراہان نے عملے میں کٹوتیوں سے متعلق مسک کے جارحانہ رویے پر شکایات کیں.بعد ازاں اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مسک اور روبیو کے درمیان کسی بھی تنازعے کی خبروں کو میڈیا کی من گھڑت کہانی قرار دیا۔ٹرمپ نے بعد میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی اس معاملے پر ردعمل دیا اور بیوروکریسی میں کمی سے متعلق محتاط حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔