ٹرمپ انتظامیہ کی وفاقی تحقیقی فنڈنگ میں کٹوتی کوشش پر سائنسدانوں کا امریکا میں احتجاج

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے متعدد ایجنسیوں کے اہم عملے کو ختم کرنے اور زندگی بچانے والی تحقیق کو روکنے کی کوششوں کی مذمت کرنے کےلئے سائنسدانوں نے امریکا کے تمام شہروں میں مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب سے ٹرمپ وائٹ ہاؤس واپس آئے ہیں ان کی حکومت نے وفاقی تحقیقی فنڈنگ میں کٹوتی کی ہے عالمی ادارہ صحت اور پیرس معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔اس سلسلے میں محققین، ڈاکٹروں، طلبہ، انجینئروں اور منتخب عہدیداروں نے نیویارک، واشنگٹن، بوسٹن، شکاگو اور میڈیسن، وسکونسن میں سڑکوں پر نکل کر سائنس پر ہونے والے غیر معمولی حملے پر اپنے غصہ کا اظہار کیا۔اس ضمن میں بوسٹن کے میساچوسٹس جنرل ہسپتال کے محقق جیسی ہائٹنر کا کہنا ہے کہ ویکسین کے بارے میں شک کرنے والے رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کو محکمہ صحت اور انسانی خدمات کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جو نا قابل برداشت ہے . جیسی ہائٹنر کا کہنا ہے کہ وہ ہر چیز کو آگ لگا رہے ہیں۔ 50 سالہ محقق گروور نے کہا ہے کہ اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ غیر معمولی ہے۔

Scientists in the US protest against the Trump administration’s attempt to cut federal research funding

اپنا تبصرہ لکھیں