امریکا میں 15 سال بعد فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت پر عملدرآمد

جنوبی کیرولائنا میں اپنی سابق گرل فرینڈ کے والدین کو بیس بال بیٹ سے قتل کرنے کے جرم میں سزا پانے والے 67 سالہ بریڈ سگمن کو امریکا میں 15 سال بعد پہلی بار فائرنگ اسکواڈ نے گولیاں مارکر سزائے موت پر عملدر آمد کر دیا۔واضح رہے کہ 2001 میں ڈیوڈ اور گلیڈیز لارکے کے قتل کا اعتراف کرنے والے سگمن نے سپریم کورٹ سے آخری لمحات میں سزائے موت کو روکنے کی درخواست کی تھی تاہم عدالت نے درخواست مسترد کردی تھی بعدازاں جنوبی کیرولائنا کے گورنر ہنری میک ماسٹر نے بھی معافی کی اپیل مسترد کردی تھی۔جنوبی کیرولائنا کی جیل کی ترجمان کرسٹی شین نے بتایا کہ 67 سالہ بریڈ سگمن کو ریاست کے دارالحکومت کولمبیا میں براڈ ریور کریکشنل انسٹیٹیوشن میں 3 افراد پر مشتمل فائرنگ اسکواڈ نے پھانسی دی۔شین نے بتایا کہ شام 6 بج کر 5 منٹ پر گولیاں چلائی گئیں اور سگمون کو شام 6 بج کر 8 منٹ پر ایک ڈاکٹر نے مردہ قرار دیا.بریڈ کے وکیل کنگ نے بتایا کہ سگمن کے پاس مہلک انجکشن، الیکٹرک چیئر یا فائرنگ اسکواڈ میں سے کسی ایک کا انتخاب تھا۔سگمن نے فائرنگ اسکواڈ کا انتخاب کیا تھا.امریکا میں آخری بار فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پھانسی 2010 میں یوٹاہ میں دی گئی تھی۔1976 میں سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت بحال کیے جانے کے بعد سے امریکا میں زیادہ تر سزائے موت مہلک انجکشن کے ذریعے دی جاتی رہی ہے۔رواں سال امریکا میں 6 افراد کو سزائے موت دی جاچکی ہے جبکہ 23 ریاستوں میں یہ سزا ختم کی جا چکی ہے۔ الاباما میں حال ہی میں نائٹروجن گیس کا استعمال کرتے ہوئے 4 لوگوں کو سزائے موت دی جا چکی ہے جسے اقوام متحدہ کے ماہرین نے ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔

Death penalty carried out by firing squad in the US after 15 years

اپنا تبصرہ لکھیں