بدھ کو ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس سے میڈیا بریفنگ کے دوران بانی پی ٹی آ ئی عمران خان سے متعلق سوال کیاگی صحافی نے سوال کیا کہ آیا صدر ٹرمپ عمران خان کی قید کے حوالے سے کوئی کارروائی کریں گے۔تاہم امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے عمران خان سے متعلق سوال پر ردعمل دینے سے انکار کر دیا۔ترجمان محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات پر بات نہیں کی جائے گی۔ صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ سے متعلق چاہیں تو وائٹ ہاؤس سے بھی پوچھ لیں۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے با نی پی ٹی آئی سے متعلق سوال پرجواب دینے سے گریز کیا ہے۔ 6 مارچ کو بھی دوران میڈیا بریفنگ بانی پی ٹی آئی سے متعلق سوال پر ترجمان نے ردِ عمل نہیں دیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ ہمیں کرہ ارض کی پرواہ ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا کو اپنے پڑوسیوں کی پرواہ ہے ہمیں اس بات کی فکر ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور یہ ہمارے عمل سے واضح ہے۔دریں اثناء امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے امریکا میں داخلے پر پابندی کے لیے ملکوں کی فہرست بنانے کی تردید کر دی۔ٹیمی بروس نے کہا جس فہرست کا انتظار ہو رہا ہے اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کے حکم پر ویزا مسائل کا حل تلاش کیا جا رہا ہے جلد مکمل حل سامنے آئے گا۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی سلامتی کےلیے جائزہ لیا جارہا ہے کہ ویزا مسائل سے کس طرح نمٹنا ہے اور کسے داخلے کی اجازت دینی ہے جب یہ جائزہ مکمل ہوگا تو ہم اس بارے میں بات کرسکیں گے۔