امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر ایلون مسک کے خلاف ہینڈز آف احتجاجی تحریک شروع ہو گئی ہے۔ شکاگو، نیویارک، واشنگٹن، انٹلانٹا، ڈینور، ڈیلاس سمیت امریکا بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ اس کے علاوہ کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، پرتگال اور میکسیکو میں بارہ سو مقامات پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین امریکا میں حقیقی جمہوریت کی بحالی اور ٹرمپ حکومت سے عوام دشمن پالیسیاں واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ہینڈز آف نامی مہم میں امریکہ کی 50 ریاستوں میں 1200 مقامات پر لوگوں نے مظاہرے کیے جن میں 150 گروپوں نے حصہ لیا۔امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہفتے کو شروع ہونے والے مظاہروں میں ہزاروں شہریوں نے حصہ لیا اور امریکی صدر کے انداز حکومت اور پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے 1 ہزار سے زائد شہروں میںہینڈز آف کے عنوان سے نکالی گئی ان احتجاجی ریلیوں میں شامل مظاہرین نے امیگریشن پالیسیوں، تجارتی محصولات، تعلیمی بجٹ میں کٹوتیوں اور ایلون مسک کی سربراہی میں محکمہ حکومتی کارکردگی کی جانب سے وفاقی ملازمتوں میں کی گئی 20 ہزار سے زائد کٹوتیوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق صرف نیویارک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے جبکہ واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل مال پر 20,000 سے زائد مظاہرین نے شرکت کی۔ ملک کی تمام 50 ریاستوں کے علاوہ کینیڈا اور میکسیکو میں بھی مظاہرے منعقد کیے گئے۔یورپ میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ برلن، فرینکفرٹ، پیرس، اور لندن میں مقیم امریکی شہریوں نے احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی۔ برلن میں ٹیسلا کے شوروم کے باہر مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ایلون، چپ رہو کسی نے تمہیں ووٹ نہیں دیا جیسے نعرے درج تھے۔