امریکی تاریخ کا طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن ختم کرنے کے لیے سینیٹ نے بل کی منظوری دے دی۔ امریکی سینیٹ نے سالانہ اخراجاتی بل کے حق میں 60 اور مخالفت میں 40 ووٹ آئے جن میں سے اپوزیشن ڈیموکریٹ کے 8 اراکین نے بھی بل کی حمایت کی۔امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ سے بل کی منظوری کے بعد 41 دن تک جاری رہنے والے شٹ ڈاؤن کے خاتمے اور حکومت چلنے کے درواذے کُھل گئے ہیں۔ معاہدے کے تحت وفاقی اداروں کے لیے وہ فنڈز بحال کیے جائیں گے جو یکم اکتوبر کو ختم ہو گئے تھے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وفاقی محکموں میں عملہ کم کرنے کی مہم بھی عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔ معاہدے کے مطابق 30 جنوری تک کسی بھی ملازم کو برخاست نہیں کیا جا سکے گا۔شٹ ڈاؤن کے باعث لاکھوں سرکاری ملازمین تنخواہوں کے بغیر کام کرنے پر مجبور تھے، خوراک کی امدادی پروگرام معطل اور ایئر ٹریول سسٹم بری طرح متاثر ہوا۔امریکی میڈیا کے مطابق سالانہ اخراجاتی بل کی ایوان نمائندگان سے حتمی منظوری ہونا ابھی باقی ہے جہاں حکمران جماعت ری پبلکن کا کنٹرول ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایوانِ نمائندگان سے بھی بل منظور ہوگیا تو امریکا میں طویل سیاسی بحران کے بعد سرکاری اداروں کا معمول بحال ہو جائے گا۔