ایران کی بندرگاہ پر دھماکے میں چار اموات. سینکڑوں افراد زخمی. سرکاری میڈیا

ایران کے شہر بندر عباس میں شہید رجائی بندرگاہ پر دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 512 زخمی ہوگئے۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بندر عباس بندرگاہ پر کنٹینر پھٹنے کی وجہ سے دھماکے ہوئے ہرموزگان کے کرائسز مینجمنٹ چیف مہرداد حسن زادہ نے کہا کہ یہ دھماکے بندرگاہ کے صحن میں ذخیرہ کیے گئے کئی کنٹینرز کے پھٹنے سے ہوئے، زخمیوں کو باہر نکالا جا رہا ہے۔ایران کے صوبے ہرمزگان کے کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دھماکا بہت شدید تھا تاہم دھماکے کی وجوہات کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ دھماکے کی وجوہات کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں سرکاری تصدیق جاری نہیں کی گئی ہےتاہم حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مطابق دھماکے سے نزدیکی عمارتوں، گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ دھماکا بندرگاہ کی گیس ٹینک تنصیب میں ہوا فائر ٹینڈرز آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔دوسری جانب کسٹم حکام نے کہا ہے کہ دھماکا ممکنہ طور پر کیمیکل اور خطرناک اشیا کے گودام میں ہوسکتا ہے۔ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندر عباس میں واقع شہید رجائی بندرگاہ کے سپیشل اکنامک زون میں زور دار دھماکہ ہوا ہے جس کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ اس علاقے میں زیادہ تر دفتری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔بندرگاہ کے ایک ملازم نے بتایا کہ متعدد ملازمین اب بھی ان منہدم چھتوں کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں اور ہم انھیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ بندرگاہ صوبہ ہرمزگان کے دارالحکومت بندرعباس سے 23 کلومیٹر مغرب اور آبنائے ہرمز کے شمال میں واقع ہے جہاں سے دنیا کی تیل کی پیداوار کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ایران نے بندر عباس بندرگاہ کے لیے ایکسپورٹ اور ٹرانزٹ شپمنٹ معطل کر دی، ایران کی کسٹم اتھارٹی نے تمام کسٹم دفاتر کو حکم دیا ہے کہ وہ بندر عباس کی شاہد راجی بندرگاہ پر برآمدی اور ٹرانزٹ شپمنٹس کی ترسیل تاحکم ثانی روک دیں۔نیشنل ایرانین آئل ریفائننگ اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی نے کہا ہے کہ دھماکے کا علاقے میں ریفائنریوں، ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں یا تیل کی پائپ لائنوں سے کوئی تعلق نہیں ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ بندر عباس کی تنصیبات میں آپریشن بلا تعطل جاری ہے

Four dead in explosion at Iranian port, hundreds injured. State media

اپنا تبصرہ لکھیں