امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف پر ان کی اپنی کابینہ میں بھی اختلافات شروع ہوگئے ایلون مسک نے وائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر پیٹر نیرو کو احمق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اینٹوں کا ڈھیر بھی اس سے زیادہ عقلمند ہوتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں خصوصاً ٹیرف ے معاملے پر مشہور صنعت کار اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک اور وائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر پیٹر نیرو کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا.ایلون مسک کا کہنا تھا کہ ہ پیٹر نیرو کی پالیسیاں امریکی صنعت کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور وہ عالمی تجارت کے بنیادی اصولوں کو بھی نہیں سمجھتے۔جس کے جواب میں پیٹر نیرو نے ایلون مسک کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایلون صرف گاڑیاں بیچتے ہیں انہیں صرف اپنے کاروبار کی فکر ہے انہیں ٹیرف یا بین الاقوامی تجارت کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں۔یہ معاملہ اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے چین، یورپ اور دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ دینا بتایا گیا تاہم اس پالیسی کے خلاف کئی امریکی صنعت کاروں بالخصوص ٹیکنالوجی اور آٹوموبائل سیکٹر کے بڑے ناموں نے آواز اٹھائی جن میں ایلون مسک بھی شامل ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایلون مسک نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر تنقید کی ہو مگر اس بار معاملہ ذاتی الزامات تک پہنچ گیا ہےجو مستقبل میں امریکی صنعتی پالیسی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کے بعد ایلون مسک کا ٹرمپ انتظامیہ پر اثر و رسوخ تیزی سے کم ہو رہا ہے کئی تجزیہ کاروں کے مطابق ایلون مسک کی کھلی تنقید سے ان کے اور حکومت کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔اگرچہ ایلون مسک کا موقف بعض حلقوں میں مقبول ہو سکتا ہے، مگر ان کی زبان کی سختی اور پیٹر نیرو پر ذاتی حملے ان کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔