ایلون مسک کا ٹرمپ انتظامیہ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ

برطانوی اور امریکی میڈیا کے مطابق دنیا کے امیر ترین شخص اور معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت قائم کردہ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی دستبردار ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے . میڈیا رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کے حکومتی کردار سے دستبردار ہونے سے متعلق انکشاف کیا اور کہا کہ ٹرمپ نے کابینہ اور قریبی افراد کو مسک کے دستبردار ہونے سے متعلق آگاہ کردیا۔امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ نے کابینہ ارکان کو بتایاکہ آئندہ آنے والے ہفتوں میں اپنے کردار سے دستبردار ہوں گے۔رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اور مسک کے درمیان طے پایا کہ مسک اب اپنے کاروباری مفادات پر توجہ مرکوز کریں گے جن میں ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس جیسے بڑے ادارے شامل ہیں۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایلون مسک کو حکومتی اخراجات میں کمی لانے کی ذمے داری سونپی تھی اور ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی ے سربراہ تھے۔تاہم امریکی اخبار کے مطابق حکومتی کردار سے دستبرداری کی مسک کی ٹیم یا وائٹ ہاوس نے تاحال تصدیق نہیں کی۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چند روز قبل اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ ایلون مسک اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔برطانوی اخبار کے مطابق مسک نے اپنے مختصر دور میں وفاقی ملازمین کی تعداد میں کمی اور غیر ضروری اخراجات ختم کرنے کے لیے جارحانہ اقدامات کیے جن میں بڑے پیمانے پر چھانٹیاں اور فورک ان دی روڈ نامی رضاکارانہ استعفیٰ پروگرام شامل تھا۔تاہم ان اقدامات پر قانونی چیلنجز اور وفاقی ملازمین کے احتجاج نے ان کی کوششوں کو متنازع بنا دیا تھا۔

Elon Musk’s decision to resign from the Trump administration

اپنا تبصرہ لکھیں