حمیرا اصغر کے کیمیکل ایگزامن رپورٹس آگئیں.منشیات کے استعمال یا زہر دینے کے شواہد نہیں ملے

ڈیفنس فیز 6 میں فلیٹ سے مردہ پائی جانے والی ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش سے لیے گئے نمونوں کی کیمیکل ایگزامن رپورٹس آگئیں۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ تجزیے کے دوران قتل کے شواہد نہیں ملے کیمیائی تجزیئے کے دوران منشیات کے استعمال یا زہر دینے کے شواہد نہیں پائے گئے قوی امکان ہے کہ حمیرا اصغر کی موت طبعی طور پر ہوئی۔حکام کے مطابق حمیرا اصغر کی لاش سے 9 سیمپلز جامعہ کراچی کی فارنزک لیب بھیجے گئے تھے۔ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق موت کی اصل وجہ ایم ایل او کی حتمی رپورٹ میں واضح کی جائے گی جو آئندہ 24 گھنٹوں میں موصول ہونے کا امکان ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق فلیٹ سے ملنے والی لاش حمیرا اصغر کی ہی تھی بھائی کاڈی این اے میچ کرگیا۔واضح رہے کہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان کے عدالت پہنچنے پر عدالتی بیلف ان کے گھر پہنچا اور فلیٹ کا دروازہ نہ کھولنے پر دروازہ توڑا گیا تو اداکارہ کی لاش برآمد ہوئی۔پولیس ذرائع کے مطابق حمیرا اصغر نے آخری مرتبہ8مئی2023 کو یو اےای کا سفر کیا، حمیرا 23 جنوری 2023 کو بیرون ملک گئی اور یکم فروری کو واپس پہنچی اداکارہ نے 29اکتوبر 2021کو مسقط کا سفر کیا 4نومبر کو واپس کراچی پہنچی۔

Humaira Asghar’s chemical examination reports have arrived. No evidence of drug use or poisoning was found.

اپنا تبصرہ لکھیں