اتوار کے روز یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا میزائل اسرائیل کے بین گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب گرا جس کے بعد متعدد یورپی اور امریکی ہوائی کمپنیوں نے اگلے کئی دنوں کے لیے اپنی پروازیں بند کرنے کا اعلان کردیا . قبل ازیں جنوری میں حماس سے جنگ بندی معاہدے کے بعد غیر ملکی ہوائی کمپنیوں نے اسرائیل کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کر دی تھیں جو گذشتہ ڈیڑھ سال تک زیادہ تر معطل رہیں۔لفتھانزا گروپ جس میں لفتھانزا، سوئس، برسلز اور آسٹریئن شامل ہیں انہوں نے موجودہ صورتِ حال کی بنا پر منگل تک تل ابیب کے لیے پروازیں روک دیں ہیں ۔ڈیلٹا ایئرلائنز نے کہا کہ اس نے اتوار کو نیویارک میں جے ایف کے سے تل ابیب جانے والی پرواز اور پیر کو تل ابیب سے واپسی کی پرواز منسوخ کر دی۔ یونائیٹڈ نے البتہ ابھی تک نیویارک سے اپنی پروازیں منسوخ نہیں کیں۔ ڈیلٹا اور یونائیٹڈ پر تل ابیب سے پروازیں تقریباً 90 منٹ تاخیر سے روانہ ہوئیں آئی ٹی اے نے کہا کہ اس نے بدھ تک اٹلی سے اسرائیل جانے والی پروازیں منسوخ کر دیں جبکہ ایئر فرانس نے اتوار کو یہ کہہ کر پروازیں منسوخ کر دیں کہ مسافروں کو پیر کی پروازوں میں منتقل کر دیا گیا۔ قبرص کے لیے ٹی یو ایس کی پروازیں پیر تک منسوخ کر دی گئیں جبکہ نئی دہلی سے ایئر انڈیا کی پروازیں اتوار کو روک دی گئیں۔بین گوریون ایئرپورٹ کے سربراہ اُدی بار اوز نے کہا کہ قریبی سڑک پر میزائل گرنے کے 30 منٹ سے بھی کم وقت میں ایئرپورٹ کا انتظام دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایئرپورٹ اور نقل و حمل کے وزیر آئندہ دنوں میں پروازوں کے نظام الاوقات کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے ہوائی کمپنیوں کو معلومات فراہم کر رہے ہیں۔جبکہ ایجین، فلائی دبئی اور ایتھوپیئن نے پروازیں منسوخ نہیں کیں.
