بھارتی شہر ایودھیا کے مشہور رام مندر میں کروڑوں کا خرد برد کرنیوالے 8 ملزمان گرفتار کرلئے گئے .بھارتی میڈیا کے مطابق اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے تقریباً 3 ماہ قبل عطیات گننے والے عملے پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے انہیں ہٹانے کی سفارش کی تھی تاہم مندر ٹرسٹ کے بعض عہدیداروں نے مبینہ طور پر اس کارروائی کو روک دیا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق اب تک عطیات کی گنتی کرنے والے 8 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ پولیس کے مطابق 2 بینک ملازمین کے کردار کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن کے خلاف کارروائی متوقع ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ملزمان پر شبہ ہے کہ انہوں نے مندر کے عطیات میں سے تقریباً 7 سے 7.5 کروڑ روپے خرد برد کیے۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان نے مبینہ طور پر خرد برد کی گئی رقم سے غیر معمولی جائیدادیں اور قیمتی اثاثے بنائے جن میں تقریباً 65 لاکھ روپے مالیت کا ایک مکان، آبائی گاؤں میں تعمیر کیا گیا ایک فارم ہاؤس، ایک اسپورٹس یوٹیلٹی گاڑی، 1 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی موٹر سائیکل اور دیگر قیمتی اثاثے شامل ہیں۔پولیس کے مطابق اب تک ملزمان سے تقریباً 70 سے 80 لاکھ روپے نقد برآمد کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید رقوم اور اثاثوں کی حوالگی کے لیے کارروائی جاری ہے۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد میں سے بیشتر کی بھرتی سفارش پر کی گئی تھی اور پولیس سے ان کی تصدیق بھی نہیں کروائی گئی تھی۔