غزہ میں اسرائیلی حملے میں خاتون ڈاکٹر کے 10 میں سے 9 بچے شہید جبکہ ان کے شوہر اور ایک بیٹا زخمی ہوگیا حملے کے وقت ڈاکٹر علا النجار نصر ہسپتال میں فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھی.عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے بچوں کی عمریں 7 ماہ سے 12 سال کے درمیان تھیں۔غزہ کے صحت حکام نے بتایا ہے کہ ایک اسرائیلی حملے میں خان یونس کی ایک ڈاکٹر کے تقریباً پورے خاندان کو اُس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھیں۔اسپتال کے شعبہ اطفال کے سربراہ ڈاکٹر احمد الفرّا کے مطابق جمعے کے روز یہ حملہ جنوبی شہر کے نصر اسپتال کی ماہر اطفال ڈاکٹر علا النجار کے گھر پر ہوا جس سے گھر میں آگ لگ گئی اور ان کے 10 میں سے 9 بچے شہید ہو گئے عرب میڈیا کے مطابق حملے میں ڈاکٹر عالہ النجار کے شوہر بھی زخمی ہوئے جب کہ بچ جانے والا واحد بچہ بھی زخمی حالت میں ہے۔ ان بچوں کے نام سدار، لقمان، سدین، ریوال، رُسلان، جُبران، ایو، راکان اور یحییٰ بتائے گئے ہیں۔اس جوڑے کا واحد زندہ بچ جانے والا بچہ 11 سالہ آدم بھی شدید زخمی ہے۔ ڈاکٹر الفرّا کے مطابق وہ اس وقت درمیانی نوعیت کے آئی سی یو ڈیپارٹمنٹ میں اپنی والدہ کے ساتھ ہے۔اقوامِ متحدہ کی فلسطینی علاقوں کے لیے خصوصی نمائندہ فرانچسکا البانیزے نے النجار خاندان کے گھر پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سفاکانہ طرزِ عمل اور محصور غزہ میں فلسطینیوں کو درپیش نسل کشی کے ایک نئے مرحلے کا حصہ قرار دیا۔