دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی میٹا کے خلاف امریکی حکومت کی جانب سے دائر کردہ اینٹی ٹرسٹ ٹرائل کا آغاز ہوگیا جس میں مارک زکربرگ 14 اپریل کو ہونے والی سماعت میں پیش ہوئے۔خبر رساں ادارےکے مطابق امریکا کی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی جانب سے مقدمے کی سماعت کے دوران دعویٰ کیا گیا کہ فیس بک نے ایک دہائی قبل انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو اپنا خطرہ کم کرنے کے لیے خریدا اور انہوں نے اپنی مخالف کمپنیوں کو مقابلے کا وقت ہی نہیں دیا۔سماعت کے دوران ایف ٹی سی کے وکلا کا کہنا تھا کہ مارک زکربرگ نے ایک دہائی قبل ہی فیس بک کو دیگر حریف ایپلی کیشنز اور ویب سائٹس سے محفوظ کرنے کے لیے انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسی سروسز کو ان کی قدر سے زائد رقم پر خریدا۔میٹا اور اس کی ٹیم کے وکلا نے ایسے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ ایف ٹی سی کا مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے۔امریکی سرکاری ادارے ایف ٹی سی کے حکام کا دعویٰ ہے کہ مارک زکربرگ نے 2012 میں انسٹاگرام کو خریدنے کے وقت کی جانے والی ای میلز میں یہ جملے استعمال کیے تھے کہ انسٹاگرام سے مقابلہ کرنے کے بجائے اسے خریدنا زیادہ آسان اور فائدہ مند ہے۔اگر مذکورہ مقدمے میں ایف ٹی سی یعنی امریکی سرکاری حکام کو کامیابی ملی تو میٹا کو واٹس ایپ اور انسٹاگرام کو فروخت کرنے یا پھر انہیں دوبارہ سے ری سیٹ کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔