قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس میٹنگ سے زیادہ پریزنٹیشن تھی. علی امین گنڈاپور

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس میٹنگ کم اور پریزنٹیشن زیادہ تھی پریزینٹیشن اور اعلامیہ پیش کرنے سے دہشتگردی ختم ہونا ہوتی تو اب تک ہوچکی ہوتی. انہوں نے کہا کہ پریزینٹیشن کے بعد پھر ہر ایک نے اپنی اپنی بات کرلی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں میرے تحفظات تھے اس کا دوسرا قدم اب یہ ہونا چاہیے کہ ایک چھوٹی کمیٹی میں فیصلہ کرنا چاہیے دہشتگردی کو ختم کرنے کے لیے کیا چاہیے پریزینٹیشن ہوجانا اعلامیہ پیش کردینا اس طرح دہشتگردی ختم ہوتی تو اب تک ہوچکی ہوتی۔نجی ٹی وی کے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں کسی صورت آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے آپریشن کا فائدہ نہیں ہونا،نقصان ہی ہونا ہے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تو چل رہے ہیں تفصیل سے بیٹھنا ہو گا،صرف قرار داد پاس کرنے سے کچھ نہیں ہوتا. علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عوام کے بغیر جنگ جیتنا ناممکن ہے عوام کا اعتماد اداروں سے اٹھ چکا ہے.وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اب بھی گڈ طالبان موجود ہیں یہ طالبان بھتہ لیتے ہیں ناکہ لگاتے ہیں تھوڑی وصولی کرکے بھاگ جاتے ہیں ان طالبان کو تحفظ مل رہا ہے.انہوں نے کہا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں ہیں سیاسی استحکام نہیں آسکتا آگے بڑھنے کیلئے بانی پی ٹی آئی کو رہا کرنا چاہیے.وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ 9مئی میں جو ہوا جس نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہوں پارٹی پالیسی میں ایسا کچھ نہیں تھا کہ عسکری پوائنٹس پر توڑ پھوڑ کریں.انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جذبات یا نادانی میں پارٹی پالیسی کے خلاف گیا تو اتنی بڑی غلطی نہیں کہ ملٹری ٹرائل ہو ملٹری ٹرائل کے لیے اسلحہ سے لیس ہوکر حملہ کرنا ہوتا ہے میرا موقف تھا اور ہے کہ ان کارکنوں کو سزا ختم کرکے رہا کیا جائے۔

The National Security Committee meeting was more of a presentation than a meeting. Ali Amin Gandapur

اپنا تبصرہ لکھیں