حماس کے ساتھ جاری تنازعہ میں فلسطینیوں کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے مالدیپ حکومت نے اسرائیلی پاسپورٹ کے حامل شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مالدیپ کی پارلیمان سے منظوری کے بعد اس فیصلے کی توثیق مالدیپ کے صدر محمد معیزو نے بھی کردی گئی۔ اس فیصلے پر عملدرآمد فوری طور پر شروع ہوگیا۔مالدیپ کے صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امیگریشن قانون میں یہ ترمیم اسرائیل کی غزہ میں کی جانے والی ظالمانہ کارروائیوں کی مذمت کے طور پر کی گئی ہے.نئے قانون کے تحت اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والے افراد مالدیپ میں داخل نہیں ہو سکیں گے تاہم دہری شہریت رکھنے والے افراد کسی دوسرے ملک کے سفری دستاویزات کے ذریعے ملک میں داخل ہو سکتے ہیں۔یہ تجویز سب سے پہلے مئی 2024 میں اپوزیشن کے رکنِ پارلیمان میکائل احمد نسیم نے پیش کی تھی، جسے سیکیورٹی سروسز کمیٹی نے منظور کیا اور 308 دن بعد پارلیمان سے مکمل منظوری حاصل کی گئی۔ صدر معیزو نے فلسطینی علاقوں میں انسانی ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی ایلچی مقرر کرنے اور فلسطین سے یکجہتی سے عنوان سے فنڈ ریزنگ مہم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔مالدیپ صدر کے دفتر کے مطابق محمد معیزو نے مستقل طور پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست فلسطین کے قیام کے لیے مالدیپ کی اصولی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔مالدیپ 98 فیصد سے زائد مسلمان آبادی پر مشتمل ہے اور اس نے ماضی میں بھی اسرائیلی سیاحوں پر پابندی عائد کی تھی جو 1990 کی دہائی میں ختم کر دی گئی تھی۔