میر رضا کا فون اور اسمارٹ واچ فارنزک کے لیے لاہور فرانزک لیب بھجنے کا فیصلہ

تفتیشی حکام نے میر رضا کا موبائل فون اور اسمارٹ واچ این سی سی آئی اے سے واپس لے لیا ہے موبائل فون اور اسمارٹ واچ کو فارنزک کے لیے لاہور فرانزک لیب بھیجا جائے گا۔واضح رہے کہ میر رضا کے اہلِ خانہ نے این سی سی آئی اے سے فرانزک کروانے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔اور فرانزک کا لاہور فرانزک لیب کرانے کا مطالبہ کیا تھا. میر رضا کے قتل کیس کے نئے تفتیشی افسر سراج لاشاری عدالت میں پیش ہوئے .عدالت نے تفتیش میں سست روی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ والد، خاندان اور شہر والے پریشان ہیں ایک بندے کا قتل ہوا ہے تحقیقات کریں جو حقائق ہیں سامنے لائیں۔تفتیشی افسر سراج لاشاری نے عدالت کو بتایا کہ انہیں 13 اگست کو تفتیش ملی ہے کیس میں 35 افراد سے تحقیقات جاری ہیں جو جو میر رضا سے رابطے میں تھے سب سے پوچھ گچھ جاری ہے کال ریکارڈ کے مطابق جس دن وقوعہ ہوا اس دن میر رضا کے ساتھ رابطے میں رہنے والوں کو خاص طور بلایا ہے۔سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ کیس کی تفتیش کو مزید آگے بڑھانے اور اہم شواہد کے حصول کے لیے میر رضا کے استعمال میں رہنے والی موبائل سم کی شدید ضرورت ہے۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ وہ میر رضا کی والدہ کے بائیو میٹرک کی تصدیق اور ان کے قومی شناختی کارڈ کی مدد سے سم حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ موبائل ڈیٹا اور رابطوں کی تفصیلات کو مکمل طور پر یکجا کیا جا سکے۔کیس کے تفتیشی افسر سراج لاشاری نے عدالت کو کہا کہ انویسٹی گیشن مکمل نہیں ہوئی مہلت دی جائے عدالت نے انویسٹی گیشن مکمل کرنے کے لیے 24 اگست تک مہلت دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات مکمل کرکے آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کی جائے۔ دریں اثنا عدالت نے نوجوان تاجر میر رضا کی ہلاکت کے کیس میں ان کے بزنس پارٹنر کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔ مقتول کے بزنس پارٹنر احمد بھردے کی عبوی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں وکیل نے دلائل دیے کہ میرے موکل کو ہراساں کیا جارہا ہے ۔ ہمیں تھانے بلانے کے بجائے کرائم سین پر بلایا گیا ۔عدالت نے محمد احمد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس جب آپ کو بلائے آپ نے جانا ہے اس دوران آپ نے نہ گھر تبدیل کرنا ہے نہ پولیس کو بتائے بغیر شہر سے باہر جانا ہے آپ عبوری ضمانت پر ہیں۔مقتول میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد نے عدالت کو بتایا کہ مجھے جب بھی پولیس نے بلایا میں پیش ہوا ہوں، مجھے 6، 6 گھنٹے تک بٹھا کر رکھا جاتا ہے، 13 اگست کو پولیس نے بلایا تھا میں گیا تھا۔ تفتیشی افسر سراج لاشاری نے عدالت کو بتایا کہ محمد احمد کا بیان بطور گواہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ہفتے کو سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل خالد ممتاز ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کے میر رضا کے ساتھ تجارتی تعلقات تھے، جہاں ایک دکان محمد احمد اور دوسری میر رضا چلاتا تھا۔سراج لاشاری کا کہنا تھا کہ ابھی تک کوئی ملزم ملا ہے نہ ہی ہم نے کسی کو ملزم بنایا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں