ٹرمپ کے حکم پر 40 زبانوں میں نشریات پیش کرنے والےادارے وائس آف امریکہ کا آپریش اچانک معطل

وائس آف امریکا کی اردو سمیت 40 سے زائد زبانوں کی سروس بند کرکے ہزاروں ملازمین کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ۔ غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائس آف امریکا کی پیرنٹ ایجنسی سمیت 6 دیگر وفاقی ایجنسیوں کو معطل کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کے بعد وائس آف امریکا کے متعدد ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹیوں پر بھیج دیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکا کی دو خبر ایجنسیوں کی فنڈنگ بھی کم کر دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق 40 سے زائد زبانوں میں کام کرنے والے بین الاقوامی میڈیا براڈکاسٹر وائس آف امریکا کے متعدد کارکنوں کو مکمل تنخواہ اور مراعات کے ساتھ انتظامی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔وائس آف امریکا کی پیرنٹ ایجنسی یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا کے ہیومن ریسورس ایگزیکٹو کی جانب سے بھیجی گئی ای میلز میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے کام کے احاطے میں داخل نہ ہوں اور نہ ہی داخلی نظام تک رسائی حاصل کریں۔اس سے قبل صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔ جس میں امریکی حکومت کی مالی اعانت سے چلنے والے میڈیا آؤٹ لیٹ وائس آف امریکا اور چھ دیگر وفاقی ایجنسیوں کی فنڈنگ کم کرنے کا حکم دیا تھا۔ٹرمپ کی جانب سے یو ایس اے جی ایم اور 6 دیگر ایجنسیوں بشمول فیڈرل ثالثی اور مصالحتی سروس ، ووڈرو ولسن انٹرنیشنل سینٹر فار اسکالرز ، انسٹیٹیوٹ آف میوزیم اینڈ لائبریری سروسز ، یو ایس انٹر ایجنسی کونسل آن ہوم لیس نیس، کمیونٹی ڈیولپمنٹ فنانشل انسٹیٹیوشنز فنڈ اور منارٹی بزنس ڈیولپمنٹ ایجنسی کو ہدایت دی گئی ہے کہ بیوروکریسی کو سکڑنا ضروری ہے، لہٰذا اپنے آپریشنز کو کم سے کم کریں ۔واضح رہے کہ کچھ عرصی قبل صدر ٹرمپ کے مشیر ایلون مسک نے وائس آف امریکہ پر شیدید تنقید کی تھی اور ایلون مسک نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا تھا کہ وائس آف امریکا کو بند کر دینا چاہیے۔

Voice of America, which broadcasts in 40 languages, abruptly suspends operations on Trump’s orders

اپنا تبصرہ لکھیں