پنجاب میں دو ہزار جبکہ لاہور میں 282 واٹر فلٹریشن پلانٹس ناکارہ ہونےسے لاہور سمیت پنجاب بھر میں شہری آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں پینے کے صاف پانی کے مسائل سنگین شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں لاہور میں سالانہ ایک میٹر تک گرنے والی پانی کی سطح جو کہ پچھلے تین سال سے مستحکم تھی اس میں ایک بار پھر کمی شروع ہو چکی ہے۔واضح رہے کہ شہر میں 576 ٹیوب ویلز کی مدد سے روزانہ 500 ملین گیلن سے زائد پانی واٹر سپلائی لائنز کی مدد سے شہریوں تک پہنچایا جاتا ہےزیر زمین پانی کی سطح کم ہونے اور آرسینک کی شرح بڑھ کر اس پانی کو آلودہ کر رہی ہے۔روز انہ فیکٹریوں اور گھروں سے نکلنے والا دو ہزار کیوسک گندا پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے راوی کی نظر کر دیا جاتا ہے جو کہ لاہور میں آبی آلودگی کی بڑی وجہ ہے۔لاہور میں دو سرےفیس اورسات ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے کا منصوبہ تاحال کاغزی کاروائی تک محدود ہے جس سے ہانی کی آلودگی بڑھتی جا تہی ہے 