چین کا امریکا پر 84 فیصد جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

چین نے امریکا کے ساتھ جاری تجارتی تنازعے میں ایک بڑا جوابی وار کرتے ہوئے امریکی مصنوعات پر 84 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا۔جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی مصنوعات پر ان نئے ٹیرف کا نفاذ جمعرات سے ہوگا۔چین نے پہلے ہی امریکی درآمدی اشیاء پر 34 فیصد ٹیرف عائد کر رکھا تھا جس میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد امریکا کی مصنوعات پر عائد کیے گئے بھاری ٹیرف کا جواب دینا ہے جس کی مقدار پہلے ہی 104 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔امریکی حکام نے اسے”غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے مزید جوابی اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ سے عالمی منڈیوں میں مزید بے چینی پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکا چین سے زیادہ مصنوعات درآمد کرتا ہے، اور اس کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ اس کی جی ڈی پی کا تقریباً 1 فیصد ہے۔چین امریکا سے سویا بین اور طیاروں کے انجن درآمد کرتا ہے جبکہ امریکا چین سے اینٹی گریٹڈ سرکٹس، دوائیاں، ٹیلی کام کے آلات، بیٹریاں، لیپ ٹاپس اور کھلونے بھی درآمد کرتا ہے۔چین کا کہنا ہے کہ امریکا سے تجارتی جنگ کے نتیجے میں امریکا کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ چین دھاتوں کو ریفائن کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اور وہ امریکا کو جرمینیم اور گیلیم کی درآمد روک سکتا ہے۔ ان مواد کا استعمال امریکا کی تھرمل ایمیجنگ اور ریڈار کی تیاری میں ضروری ہے جو امریکی ملٹری کے لیے انتہائی اہم ہیں۔چین سے تجارتی جنگ کا اثر امریکا کی مصنوعی ذہانت کی ایپلیکیشنز پر بھی پڑ سکتا ہے جس سے امریکا کی ٹیکنالوجی میں ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ترجمان چینی وزارتِ تجارت نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اپنی ضد پر قائم رہا تو چین آخری حد تک لڑے گا، چین کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات کبھی قبول نہیں کریں گے

China announces 84% ​​retaliatory tariffs on US

اپنا تبصرہ لکھیں