کابل دھماکے کے دہشتگرد کی گرفتاری میں تعاون پر ٹرمپ پاکستان کے شکر گزار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2021 میں امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے میں 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے ذمے دار داعش کے دہشت گرد محمد شریف اللہ کی گرفتاری میں کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔امریکی صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد کانگریس سے پہلے طویل ترین خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ انتہاپسند دہشتگردی کے خلاف ہیں. مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہےکہ افغانستان میں دہشتگردی کا بڑا ذمہ دارپکڑاگیا ہے۔ہم نے اس ظلم کے ذمہ دار سرفہرست دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے اور وہ اس وقت امریکی انصاف کی تیز تلوار کا سامنا کرنے کے لیے یہاں آ رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں اس عفریت کو پکڑنے میں مدد کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ساڑھے تین سال پہلے داعش نے 13 امریکیوں کو افغانستان میں قتل کیا افغانستان میں امریکیوں کو ہلاک کرنے والا اس وقت امریکا لایا جارہا ہے تاکہ وہ امریکا میں قانون کا سامنا کرسکے۔اس موقع پر امریکی صدر نے افغانستان سے انخلا کو انتہائی شرمناک بھی قرار دیا.ٹرمپ کے خطاب کے چند لمحوں بعد ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے اپنی ایکس پوسٹ میں لکھا کہ وہ اطلاع دے سکتے ہیں کہ ایف بی آئی، ڈی او جے اور سی آئی اے نے افغانستان انخلا کے دوران ایبی گیٹ پر 13 امریکی فوجیوں کے قتل کے ذمہ دار دہشت گردوں میں سے ایک کی حوالگی حاصل کرلی ہے۔وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مشتبہ شخص کا نام محمد شریف اللہ ہے اور اسے امریکا کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے سی آئی اے کی انٹیلی جنس پر کارروائی کی جس کی وجہ سے شریف اللہ کو گرفتار کیا گیا۔ ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے ا بتدائی تفتیش میں محمد شریف اللہ نے بتایا کہ وہ 2016 میں داعش کی ایک شاخ داعش خراسان میں بھرتی ہوا تھا فرد جرم کے مطابق شریف اللہ نے داعش خراسان کی طرف سے متعدد مہلک حملوں کی سہولت کاری کا اعتراف کیا۔

Trump thanks Pakistan for cooperation in arresting Kabul blast suspect

اپنا تبصرہ لکھیں