کینیڈا میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے ہونے والے عام انتخابات کی ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے اور ابتدائی نتائج کے مطابق لبرل پارٹی کو برتری حاصل ہے لبرل پارٹی کی جانب سے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد وزیراعظم مارک کارنی نے انتخابات میں لبرل پارٹی کی کامیابی کا اعلان کردیا اس موقع پر وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ پارلیمینٹ میں تمام جماعتوں کے ساتھ تعمیری کام کرنے کے لیے پرامید ہیں، دو خودمختار ممالک کے درمیان مستقبل کے اقتصادی اور سیکورٹی تعلقات پر بات چیت کے لیے ٹرمپ کے ساتھ بیٹھیں گے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق حکمران لبرل پارٹی کو 158 جبکہ کنزرویٹو پارٹی کو 143 نشستوں پر برتری حاصل ہے.کینیڈا کے وزیراعظم اور لبرل پارٹی کے امیدوار مارک کارنی اور کنزرویٹو پارٹی کے پیئر پولی ایو میں کانٹے کا مقابلہ متوقع تھا۔ 343 کےایوان میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے کسی بھی پارٹی کو 172 نشستیں درکارہوں گی۔ذرائع ابلاغ نے پیشگوئی کی ہے کہ لبرلز کینیڈا کی اگلی حکومت تشکیل دیں گے، لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کریں گے یا نہیں۔ اس کے علاوہ بلاک کیوبک کے 15 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور انہیں 25 نشستوں پر برتری ہے۔ این ڈی پی کا ایک امیدوار کامیاب ہوا ہے جبکہ اسے 9 نشستوں پر برتری ہےیاد رہے کہ الیکشن سے پہلے لبرلز کے پاس 152 اور کنزریٹوز کے پاس 120 نشستیں تھیں جبکہ بلاک کیوبک کے پاس 33 اور این ڈی پی کے پاس 24 نشستیں تھیں۔لبرل پارٹی کی جانب سے رائے دہندگان کو یقین دلایا گیا کہ معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے اپنے تجربے کی وجہ سے وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔یہ انتخابات ایسے وقت میں ہوئے جب عوام مہنگے رہائشی مکانات 6.7 فیصد کی بے روزگاری کی شرح صحت کی سہولیات تک محدود رسائی اور امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے عائد ٹیرف جیسے مسائل پر تشویش کا شکار ہیں۔ٹرمپ کی تجارتی جنگ اور کینیڈا کے ساتھ الحاق کی دھمکیوں نے کینیڈا کے عوام کو ناراض کر دیا تھا اور امریکا کے ساتھ معاملات کو انتخابی مہم کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا۔
