ارمغان کا اپنے والد پرعدم اعتماد.ملاقات اور وکیل کو ماننے سے انکار

عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 6 دن کی توسیع کردی ملزم ارمغان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پرعدالت لایا گیا تھا ۔ عدالت نے مرکزی ملزم ارمغان کو 24مارچ تک مزید جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا.ارمغان نے اپنے والد پر عدم اعتماد کردیا ملزم نے ملاقات اور وکیل کو بھی ماننے سے انکار کردیا۔ عدالت میں شور شرابے کے بعد پولیس اہلکار ارمغان کے والد کو عدالت باہر لے گئے.قبل ازیں ملزم ارمغان کے والد کو اندر جانے سے روک دیا گیا تھا۔ جس پر ملزم ارمغان کے والد نے عدالت کو درخواست دی کہ انہیں بیٹے سے ملنے کی اجازت دی جائے۔درخواست میں ارمغان کے والد نے کہا کہ ملاقات ضروری ہے تاکہ وکیل کی تبدیلی کے حوالے سے آگاہ کر سکوں سماعت کے دوران وکیل صفائی کی استدعا پر ملزم کے والد کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت مل گئی وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ہم گارنٹی دیتے ہیں کوئی شور شرابہ نہیں ہوگا۔تاہم سماعت کے دوران ملزم کے والد نے کمرہ عدالت میں شور شرابہ شروع کردیا جس کے بعد ملزم ارمغان کے والد کو پولیس اہلکار کھینچ کر باہر لے گئے۔اس موقع پر ملزم ارمغان نے والد کی جانب سے کیے گئے نئے وکیل کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ملزم نے والد سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا۔ملزم ارمغان نے کہا کہ مجھے یہ وکیل نہیں چاہیئے، میرا والد سے کوئی واسطہ نہیں۔

Armaghan distrusted his father and refused to meet him.

اپنا تبصرہ لکھیں