اسرائیلی انٹیلیجنس کا دعویٰ ہے کہ ایران نے گزشتہ سال یورینیم افزودگی کے ہزاروں سینٹری فیوجز کوہِ کلنگ کے ایک پہاڑ کے اندر گہری سرنگوں میں منتقل کر دیے ہیں۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منتقلی گزشتہ سال جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد کی گئی جس میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی تین بڑی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کا بتانا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق یہ مقام کئی برسوں سے امریکا اور اسرائیل کی زیرنگرانی ہے ماہرین کے مطابق یہ زیرِ زمین کمپلیکس تقریباً 300 سے 450 فٹ گہرائی میں قائم ہے اور اس میں متعدد جوہری تنصیبات رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ اخبار کے مطابق ٹرمپ نے 13 جولائی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ مقام ایک بڑا اور مضبوط ہدف ہو سکتا ہے اور یہ پہلا موقع تھا جب انہوں نے کھل کر اس جگہ کا ذکر کیا۔ صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ امریکا پک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔ حکام کے مطابق یہ سینٹری فیوجز پک ایکس ماؤنٹین یا کوہِ کلنگ نامی مقام پر منتقل کیے گئے ہیں۔