ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جعفر ایکسپریس حملے پر آپریشن کے حوالے تفصیلات بتاتے ہوئے س کہا ہے کہ تمام دہشگردوں کو ہلاک کردیا گیا آپریشن میں آرمی، ایئرفورس، ایف سی اور ایس ایس جی نے حصہ لیا۔ ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بولان میں 11 مارچ کو دہشتگردوں نے ریلوے ٹریک کو نشانہ بنایا اور دہشتگردوں نے ریلوے ٹریک کو نشانہ بناکر جعفر ایکسپریس کو روکا اور ریلوے حکام نے بتایا ٹرین میں 440 افراد موجود تھے۔آئی ایس پی آر کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران کسی مسافر کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم انھوں نے تصدیق کی کہ آپریشن شروع ہونے سے پہلے دہشتگردوں نے 21 افراد کو ہلاک کر دیاتھا ۔ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ ایف سی کے چار جوان بھی شہید ہوئے جنھیں پکٹ کے پاس شدت پسندوں نے حملہ کر کے مارا.ان کا کہنا تھا کہ یہ دشوار گزار علاقہ ہے دہشتگردوں نے پہلے یہ کیا کہ یرغمالیوں کو انسانی شیلڈ کے طور پر استعمال کیا.ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناتھا کہ آپریشن کے دوران تمام 33 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیاہے .انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے 3 ٹولیوں میں مسافروں کو بٹھایا ہوا تھا .لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ سب سے پہلے فورسز کے نشانہ بازوں نے خودکش بمباروں کو جہنم واصل کیا پھر مرحلہ وار بوگی سے بوگی کلیئرنس کی اور وہاں پر موجود تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کلیئرنس آپریشن میں کوئی جوان شہید نہیں ہوا.لیفٹننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ موقع پر موجود تمام دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، تاہم علاقے اور ٹرین کی کلیئرنس اور جانچ پڑتال ایس او پی کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ کر رہا ہے۔ جو مغوی مسافر آپریشن کے دوران دائیں بائیں کے علاقوں کو بھاگے ان کو بھی اکٹھا کیا جارہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ جو لال دائرے میں تین کالے بلاگ نظر آرہے ہیں، یہ وہ جگہ ہے، یہ تین ٹولیاں ہیں، جس میں انہوں نے معصوم مسافروں کو بٹھایا ہوا تھا، اس کے ساتھ خودکش بمبار بیٹھے ہوئے تھے، یہی وجہ تھی کہ ہم بہت محتاط تھے۔