دریائے سوات میں ایک ہی خاندان کے 18 افراد ڈوب گئے. 7 مقامات پر 75 سے زائد افراد بہہ گئے

خیبرپختونخوا میں موسلادھار بارش کے باعث دریائے سوات بپھر گیا جس کے نتیجے میں 7 مقامات پر خواتین اور بچوں سمیت 75 سے زائد افراد دریا میں بہہ گئے جن میں سے 8 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں اور 55 سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا گیا جبکہ 20 سے زائد کی تلاش جاری ہے۔دریائے سوات میں تیزبہاؤ کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے 18 افراد پانی میں بہہ گئے۔خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں موسلادھار بارش کے بعد دریائے سوات میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی جس کے نتیجے میں 7 مقامات پر درجنوں افراد سیلاب کی نذر ہوگئے۔دریائے سوات میں تیزبہاؤ کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے 18 افراد پانی میں بہہ گئے۔ متاثرہ خاندان سیالکوٹ سے سوات سیر کے لیے آیا تھا جو دریا کے کنارے بیٹھا ناشتہ کررہا تھا تاہم اسی دوران بارش کی وجہ سے دریا میں تیز بہاؤ ہوا اور ایک ہی خاندان کے 18 افراد بہہ گئے۔اسی طرح بائی پاس کے مقام پر موجود شہریوں عابد علی جان اور عزیز الحق کے مطابق سیالکوٹ اور مردان سے تعلق رکھنے والی 3 فیملیز دریا کے کنارے بجری کے ایک ٹیلے پر ناشتہ کر رہی تھیں جو غیر قانونی طور پر کھودا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اچانک دریا میں پانی کی سطح بلند ہوئی اور وہ ٹیلہ چاروں طرف سے پانی میں گھِر گیا وہ لوگ دریا کے کنارے تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ درمیان میں گہرے گڑھے تھے اور پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا عینی شاہدین کے مطابق پانی کا ریلا ایک ایک کرکے وہاں موجود تمام افراد کو بہاکر لے گیا۔ریسکیو 1122 کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بائی پاس ریلکس ہوٹل کے قریب 17 سے زائد افراد کے ڈوبنے کا خدشہ ہے جن کی تلاش جاری ہے اب تک 8 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ دیگر لاپتا افراد کی تلاش میں غوطہ خور اور امدادی ٹیمیں مصروف ہیں۔ایک سیاح نے کہا کہ ان کے خاندان کے 10 افراد دریا میں بہہ گئے۔سیاح نے بتایا کہ ہم ناشتہ کرکے چائے پی رہے تھے اور بچے دریا کے پاس سیلفی لینے گئے اس وقت دریا میں اتنا پانی نہیں تھا اچانک سے پانی آیا تو بچے پھنس گئے، ریسکیو کو آگاہ کیا تو وہ ڈیڑھ سے 2 گھنٹے بعد آئے یہ سب ان کے سامنے ہوا، ریسکیو کی موجودگی میں بچے دریا میں ڈوبے اور وہ بچا نہیں سکے۔ریسکیو کے مطابق امام ڈھیرئی میں 22 افراد سیلاب میں پھنس گئے تھے جنہیں بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا۔ریسکیو حکام کے مطابق غالیگے کے مقام پر 7 افراد سیلاب میں پھنس گئے ایک شخص کی لاش برآمد ہوگئی جبکہ دیگر کی تلاش میں آپریشن جاری ہے۔ریسکیو کا کہنا ہے کہ مانیار میں 7 افراد پانی کے ریلے میں پھنس گئے جنہیں نکالنے کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے اسی طرح پنجیگرام میں بھی ایک شخص سیلاب میں پھنس گیا۔ریسکیو کے مطابق مٹہ کے علاقہ برہ بامہ خیلہ میں 20 سے 30 افراد سیلاب میں پھنس گئے تھے جنہیں باحفاظت ریسکیو کرلیا گیا۔ایبٹ آباد میں بھی طوفانی بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی جبکہ سڑکوں اور گلیوں سمیت نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا گلیات کنڈلہ کے مقام پر بارش کے باعث درخت گر نے سے سڑک بند ہوگئی جبکہ دریا میں گرنے سے سیاح کی کار تباہ ہوگئی رستہ بند ہونے سے گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔

18 members of a family drowned in Swat River. More than 75 people were swept away at 7 places.

اپنا تبصرہ لکھیں