دہشتگردوں کا جعفر ایکسپریس پر حمل 4 دہشتگرد ہلاک .تین کمسن بچے شہید ہونے کی اطلاع

دہشتگردوں نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کرکے مسافروں کو یرغمال بنا لیا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن شروع کردیا ہے۔ ایف سی بولان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے اور اب تک چار دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ایف سی بولان کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ سے تین کمسن بچے شہید ہونے کی اطلاع ہے . دوسری جانب دہشت گردوں کی جانب سے 80یرغمالیوں کی رہائی کی اطلاع ہے بلوچستان ریلوے کے ایک افسر نےتصدیق کی ہے کہ منگل کی دوپہر جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے مسافروں میں سے کم سے کم 80 کو چھوڑ دیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ انھیں ٹرین سے اتار دیا گیا تھا اور وہ اب پانیر ریلوے سٹیشن کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد ساجد نامی شخص نے بتایا کہ اس کی بیوی بیٹے اور اپنے بھائی کے ہمراہ پنجاب جا رہی تھی اسے اور بیٹے کو تو چھوڑ دیا گیا ہے لیکن اس کا 22 سالہ بھائی اب بھی یرغمال ہے۔ رہائی پانے والے ایک شخص غلام مرتضیٰ کے بیٹے عادل نے بتایا کہ ان والد نے کال پر بتایا ہے کہ وہ پانیر ریلوے سٹیشن پہنچ گئے ہیں۔ اور تھوڑی دیر میں کوئٹہ ے لیے روانہ ہوں گے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرین میں خواتین اور بچے بھی موجود ہیں جبکہ دہشت گرد بیرون ملک اپنے سہولت کاروں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔جعفرایکسپریس پرنامعلوم مسلح افراد کی جانب سےفائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، ریلوے حکام کا کہنا ہےکہ فائرنگ سے ٹرین میں موجودمسافر بھی زخمی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے سیکیورٹی فورسز نےدہشتگردوں کاگھیراؤکرلیااورفائرنگ کاتبادلہ جاری ہےعورتوں اوربچوں کوڈھال بنائےجانےکی وجہ سےآپریشن انتہائی احتیاط سےکیاجارہا ہےآخری دہشت گرد کےخاتمے تک آپریشن جاری رکھاجائےگاجعفرایکسپریس کی 9 بوگیوں میں 450 کے قریب مسافر سوار ہیں, مسافروں اور عملے سے کوئی رابطہ نہیں ہوپا رہا،ٹرین صبح نو بجے روانہ ہوئی تھی۔

Terrorists attack Jaffar Express, 4 terrorists killed. Three minors reported martyred

اپنا تبصرہ لکھیں