میو اسپتال لاہور میں اینٹی بائیوٹک انجیکشن سیفٹرائی ایگزون میں اسپتال کی طرف سے انسانی غلطی کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق اینٹی بائیوٹک انجکشن کے استعمال میں عملے نے غلطی کی اور پاؤڈر انجیکشن مکس کرنے کیلئے وارڈ عملے نے غلط پانی استعمال کیا۔ ذرائع کے مطابق پانی کی بجائے رینگر لیکٹیٹ اور کیلشیم گلوکونیٹ استعمال کیا گیا میواسپتال میں انجکشن سے ہلاکت کے معاملے سلمان رفیق کا کہنا تھاکہ انجکشن سے ہلاکت انسانی غلطی کی وجہ سے ہوئی انجکشن پاؤڈر تھا اس کو محلول بنانے میں غلطی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مریضوں کو تیسری خوراک دی گئی تھی، پہلی دو خوراک لگانے سے کوئی ری ایکشن نہیں ہوا۔ذرائع نے بتایا کہ میو اسپتال میں 6 ہزار اینٹی بائیوٹک انجکشن سپلائی ہوئے تھےنجی کمپنی نے اس انجیکشن کا 4 لاکھ ٹیکے کا بیچ بنایا تھا یہ انجیکشن لاہور کے مختلف اسپتالوں میں بھی سپلائی ہوا ہے میو اسپتال کے دیگر تین وارڈز میں بھی یہ انجیکشن استعمال ہوا لیکن ان تمام اسپتالوں میں کوئی ری ایکشن سامنے نہیں آیا . وزیرصحت پنجاب سلمان رفیق کہا کہنا ہے کہ پاؤڈر کی رپورٹ آج اور محلول کی رپورٹ کل تک آجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اینٹی بائیوٹک کو بنانے کی تربیت نرسز کو دی جاتی ہے رپورٹ سامنے آنے کے بعد نرسز کے خلاف سخت کارروائی ہو گی 400کےقریب نئی نرسز بھرتی ہوئی ہیں میواسپتال میں ابھی مزید نرسز بھرتی ہوئی ہیں، اس وارڈ میں دو نرسز ڈیوٹی پر موجود تھی انہوں نے محلول بنانے میں غلطی کی۔