خبریں چھپانے کے بیان پر امریکی فوجی اخبار کی لیڈرشپ برطرف

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے امریکی فوج کے معروف اخبار اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے ایڈیٹر اور اعلیٰ قیادت کو برطرف کرنے کے نوٹس جاری کر دیے گئے.اخبار کے ایڈیٹر ان چیف ایرک سلاون نے جمعہ کو بتایا کہ انہیں نافرمانی کی بنایاد پر عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے۔ سلاون کے مطابق ان کی برطرفی کی وجہ ایک ٹی وی انٹرویو میں دیا گیا یہ بیان ہے کہ فوجی اہلکاروں کے لیے خبروں کو ممکنہ طور پر سنسر کرنا ان کے لیے ناقابل قبول ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف یہ بات واضح کی تھی کہ فوجیوں تک پہنچنے والی خبروں پر کسی قسم کی فرضی سنسرشپ ان کے لیے ایک ایسی حد ہوگی جسے وہ قبول نہیں کریں گے۔اخبار کے یورپ اور مڈل ایسٹ بیورو کے سربراہ ولیم گیلو نے عملے کے نام ایک پیغام میں تصدیق کی ہے کہ چیف ایڈیٹر کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے ذمہ داریاں نبھانے والے پبلشر میکس لیڈر اور ایک رپورٹر لارا کورٹے کو بھی برطرفی کے نوٹس مل چکے ہیں.میکس لیڈرر ستمبر کے آخر میں ریٹائر ہونے والے تھے. تاہم ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے وقت انہوں نے کہا کہ پینٹاگون اب اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے لیے ایک ایسا نیا طریقہ کار اختیار کرنا چاہتا ہے جو ان کے اپنے نقطۂ نظر سے مختلف ہے۔پینٹاگون نے معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران پینٹاگون کی جانب سے اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کو مکمل طور پر بند کرنے کے فیصلے کو واپس لے لیا تھا۔اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کی تاریخ دوسری جنگ عظیم سے بھی پرانی ہے اور یہ اخبار مسلسل فوجی اہلکاروں کے لیے خبریں شائع کرتا آ رہا ہے۔ دنیا بھر میں تعینات امریکی فوجیوں تک ملکی اور عالمی خبریں پہنچانا اس کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اخبار کو امریکی محکمہ دفاع سے مالی معاونت ملتی ہے، تاہم تاریخی طور پر اسے ادارتی معاملات میں نسبتاً آزاد سمجھا جاتا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں