بھارتی اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے مقدمے کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان کا اصل ہدف عامر خان تھے۔بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر ہونے والی حالیہ فائرنگ کے کیس میں ممبئی پولیس نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملہ آوروں کا اصل ہدف بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان تھے۔ حملہ آوروں کا تعلق مبینہ طور پر بشنوئی گینگ سے بھی بتایا جارہا ہے، جہاں سے انہیں ہدایات مل رہی تھیں۔پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گینگ کا ابتدائی ہدف سلمان خان تھے لیکن وہاں سخت سیکیورٹی دیکھ کر منصوبہ تبدیل کیا گی اس کے بعد عامر خان سمیت دیگر اداکاروں کی رہائش گاہوں کی نگرانی کی گئی۔پولیس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ مبینہ حملہ آور تقریباً ایک ماہ تک ممبئی میں رہے اور اس دوران کم از کم تین مرتبہ عامر خان کی رہائش گاہ کے اطراف نگرانی کی۔ تاہم، وہ اکثر فلموں کی شوٹنگ کے لیے باہر ہوتے تھے یا کئی دن گھر کے اندر رہتے تھے جس کی وجہ سے ملزمان کے لیے ان تک پہنچنا مشکل تھا۔پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ ملزمان نے ٹائیگر شروف کو مبینہ طور پر نسبتاً آسان ہدف سمجھتے ہوئے اپنا منصوبہ ان کی طرف منتقل کر دیا۔ ٹائیگر شروف ہر اتوار ممبئی کے علاقے جوہو کے ایک پارک میں فٹ بال کھیلنے آتے تھے۔ مبینہ حملہ آوروں نے انہیں نسبتاً آسان ہدف سمجھا اور 18 اکتوبر کو اسی مقام کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ واقعے میں ٹائیگر شروف زیادہ زخمی نہیں ہوئے تاہم ان کے ڈرائیور اور ایک راہ گیر کو چوٹیں آئیں۔ پولیس کے مطابق، حملہ آوروں نے پانچ سے چھ گولیاں چلائیں اور موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کلپ اور پوسٹ بھی سامنے آئی ہے، جنہیں مبینہ طور پر آرزو بشنوئی اور ٹائسن بشنوئی نامی افراد سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ اس آڈیو میں عامر خان کی تیسری شادی پر اعتراض کرتے ہوئے اداکار کو سبق سکھانے کی دھمکی دی گئی ہے۔خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق، ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کو شبہ ہے کہ تینوں مبینہ حملہ آوروں کو اپنے سرپرستوں سے خفیہ انٹرنیٹ پیغام رسانی کی ایپس کے ذریعے تفتیش اور پولیس کی کارروائیوں سے متعلق تازہ معلومات مل رہی تھیں۔ ٹی وی چینلز پر حملے کی تصاویر نشر ہونے کے بعد مبینہ طور پر ایک ملزم کو پیغام بھیجا گیا کہ ان کے چہرے سامنے آگئے ہیں، اس لیے وہاں سے نکل جائیں۔ممبئی پولیس کی اطلاع پر راجستھان کی کوٹا پولیس نے 19 اکتوبر کو ٹرین میں سفر کے دوران تینوں کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت 18 سالہ پھول سنگھ، 18 سالہ ریحان رحی الدین انصاری اور22 سالہ رتھک مہتو کے نام سے ہوئی ہے۔ انہیں 31 اکتوبر تک پولیس تحویل میں دیا گیا ہے۔ممبئی پولیس نے گینگسٹر انیل پنڈت کو بھی اس مقدمے میں مطلوب ملزم قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق، لارنس بشنوئی گینگ سے مبینہ تعلق رکھنے والے پنڈت کے بارے میں خیال ہے کہ وہ امریکا میں موجود ہے۔ اس نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے 18 اکتوبر کے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ تاہم، واقعے کے تمام پہلوؤں اور ملزمان کے مبینہ رابطوں کی تحقیقات جاری ہیں۔