پاکستان کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی مخالفت

پاکستان نے ویٹو پاور کی توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں جامع، جمہوری اور منصفانہ اصلاحات پر زور دیا جب کہ ویٹو کے استعمال کے بعد جنرل اسمبلی میں بحث کے انعقاد کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے عمل میں ویٹو پاور کے مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے، جو پانچ مستقل ارکان امریکا، روس، چین، فرانس اور برطانیہ کے پاس ہے تاکہ 15 رکنی کونسل کا ادارہ جاتی تعطل ختم کیا جا سکے اور اسے زیادہ موثر اور منصفانہ بنایا جا سکے۔پاکستانی مستقل مشن کے قونصلر گل قیصر سروانی نے کہا ہے کہ نئے مستقل ارکان کی شمولیت اور ویٹو کے استحقاق میں توسیع کی مخالفت کرتے ہیں، ویٹو پاور میں توسیع سے سلامتی کونسل میں عدم مساوات مزید گہری ہو گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ویٹو پاور کے خاتمے یا اس کے استعمال پر سخت پابندیوں کا حامی ہے، ویٹو پاور کا ناجائز استعمال اقوام متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے قونصلر اور سیاسی رابطہ کار گل قیصر سروانی نے اقوام متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ویٹو پاور کے استعمال پر بحث کے دوران کہی۔انہوں نے کہا کہ ویٹو پاور کا غلط استعمال سلامتی کونسل کی موثریت اور اقوام متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ پانچ مستقل ارکان کو اقوام متحدہ کے پورے نظام میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل رہتا ہے۔ اجلاس میں مختلف ممالک کے نمائندوں نے سلامتی کونسل کی تنظیمِ نو کے مطالبات دہرائے تاکہ یہ ادارہ بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے اپنے بنیادی مقصد کے حوالے سے زیادہ موثر اور جوابدہ بن سکے۔پاکستانی قونصلر نے بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان کی سلامتی کونسل میں مستقل نشستیں حاصل کرنے کی مہم کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ مستقل ارکان اور ویٹو اختیارات میں اضافہ موجودہ عدم مساوات کو مزید گہرا کرے گا، تاریخی مراعات کو برقرار رکھے گا، طاقت کے نئے مراکز پیدا کرے گا اور ادارہ جاتی تعطل کے خطرے میں اضافہ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ ویٹو پاور ختم کی جانی چاہیے یا کم از کم اس پر سخت پابندیاں عائد کی جانی چاہییں۔ اس اختیار کو مزید وسعت نہیں دی جانی چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں