امریکا کے پیٹرولیم ذخائر 4 دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

بینک آف امریکا کے چارٹ کے مطابق امریکاکے کل ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو 4 دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار ہو رہے ہیں۔ملک میں تیل کے 43 دن کی سپلائی باقی ہے یہ سطح جولائی 1983 کے بعد سب سے کم ہے جو امریکی توانائی سکیورٹی کے لیے ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔امریکی محکمہ توانائی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں خام تیل کی مقدار کم ہوکر 316.5 ملین بیرل رہ گئی ہے جو 1983 کے بعد کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔ رواں سال دوسری سہ ماہی کے دوران امریکا نے عالمی منڈی میں سپلائی برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 172 ملین بیرل خام تیل اپنے ہنگامی ذخائر سے جاری کیا تھا جبکہ امریکا سمیت دنیا کے بڑے تیل استعمال کرنے والے ممالک کے اسٹریٹجک ذخائر تیزی سے کم ہونے لگے، آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش نے عالمی تیل منڈی میں نئے بحران کا خدشہ پیدا کردیا ۔امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ اعداد و شمار اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر مسلسل دباؤ کا شکار ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سال کے آغاز میں ایران سے متعلق بحران کے باوجود عالمی منڈی اس لیے سنبھلی رہی کیونکہ مختلف ممالک نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر استعمال کی ایشیا میں تیل کی طلب میں کمی آئی توانائی کی بچت کے اقدامات کیے گئے اور امریکہ سمیت دیگر خطوں میں پیداوار میں اضافہ ہوا۔آئی ایم ایف نے بھی خبردار کیا ہے کہ مارچ سے مئی کے دوران عالمی منڈی میں یومیہ تقریباً 40 لاکھ بیرل سپلائی کے خسارے کو دنیا نے اپنے تجارتی اور اسٹریٹجک ذخائر استعمال کرکے پورا کیا، مگر اب یہ گنجائش تیزی سے ختم ہورہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں