اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی میڈیکل رپورٹ کے مطابق سابق وزیرِ اعظم عمران خان میں بے چینی اور گھبراہٹ کی شدید علامات پائی گئی ہیں۔عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں اینگزائٹی یعنی بے چینی کا لیول تھری پلس بیان کیا گیا ہے جو انتہائی شدید سمجھا جاتا ہے۔سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق خاندانی میل جول بڑھانے سے عمران خان کی بے چینی اور بلڈپریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ تھری پلس اینگزائٹی شدید بے چینی اور اضطراب کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے.یہ کیفیت ظاہر کرتی ہے کہ مذکورہ شخص اپنے اردگرد کے ماحول کی وجہ سے بے چینی اور اضطراب میں مبتلا ہے۔یہ اضطرابی کیفیت زیادہ دیر تک تنہائی میں رہنا کسی سے میل جول نہ ہونا سے بڑھ جاتی ہے اور مریض اس کی وجہ سے مایوسی اور ڈپریشن میں بھی جا سکتا ہے۔ماہرین طب کے مطابق اس کا علاج تو یہی ہے کہ مذکورہ شخص سے میل جول کی اجازت دی جائے اور جس جگہ وہ موجود ہے وہاں کے حالات اس کے لیے سازگار بنائے جائیں۔میل ملاقاتوں اور چہل قدمی اور ورزش سے بھی بے چینی اور گھبراہٹ کی علامات کم ہوتی ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں عمران خان کی چار نومبر 2023 سے لے کر 10 اگست 2026 تک 39 مختلف طبی ماہرین کے طبی معائنوں کی سمری بھی شامل کی گئی ہے۔سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم کی عمر تقریباً 73 سال ہے اور طبی معائنے کے دوران عمران خان کا بلڈ پریشر 140/80 جبکہ نبض 54 فی منٹ ریکارڈ ہوئی۔ اس رپورٹ میں سابق وزیر اعظم کی ای سی جی نارمل اور سینہ صاف اور دل کے والوز و چیمبرز نارمل قرار دیے گئے۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان تین سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور انھیں 190 ملین پاؤنڈز یا القادر ٹرسٹ کیس کے مقدمے سمیت مختلف مقدمات کا سامنا ہے۔