میر رضا علی قتل کیس میں پیشرفت. مقروض ہونے کا انکشاف

پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی نوجوان تاجر میر رضا علی کی گلستان جوہر سے لاش ملنے کے معاملے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔میر رضا کی موت کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی سینے پر لگی تاہم تحقیقات میں اس پہلو کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا گولی شاید پیچھے سے لگی ہو۔ تفتیش کاروں نے جائے وقوع کے قریب نصب سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے۔ تفتیش کاروں نے جائے وقوعہ کے قریب نصب سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی ہے جس میں 29 جولائی کی رات ایک مشکوک موٹرسائیکل ویران مقام پر آ کر تقریباً 22 سیکنڈ تک رکی رہی۔ تحقیقاتی ذرائع کا شبہ ہے کہ اسی مختصر وقفے کے دوران میر رضا علی کی لاش جھاڑیوں میں پھینکی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کی علی الصبح اسی مقام پر پھینکی گئی۔تفتیشی حکام کا مزید کہنا ہے کہ ملزمان نے ممکنہ طور پر لاش کے ساتھ پستول کا ہولسٹر بھی موقع پر پھینکا جو کیس کی تفتیش میں اہم ثبوت ثابت ہو سکتا ہے۔ تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ میر رضا نے اپنا موبائل فون راستے میں پھینک دیا تھا جو یونیورسٹی روڈ پر کام کرنے والے 3 مزدوروں کو ملا تھا پولیس نے مزدوروں کو ٹریس کیا اور موبائل فون برآمد کرلیا تفتیشی ذرائع کے مطابق موت سے قبل میر رضا کے پاس 40 ہزار روپے تھے گھر سے نکلتے وقت میر رضا نے ایک ہزار روپے اپنے ساتھ رکھے جبکہ میر رضا اسمارٹ واچ، والٹ اور گاڑی گھر چھوڑ کر گیاتھا. واقعے کے بعد سے اب تک اسلحہ اور گولی کا خول نہیں ملا۔تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش سے متعلق 15 سے زائد افراد کے بیانات لیے گئے ہیں، میر رضا کی میڈیکل رپورٹ آج اور موبائل فون کی فرانزک رپورٹ 1 سے 2 دن میں موصول ہو جائے گی۔ تفتیشی حکام نے سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کی ہیں جن میں 28 جولائی کی درمیانی شب میر رضا علی کو شب ساڑھے 3 بجے بہادرآباد چورنگی پر واقع اپنی شاپ سے سکیورٹی گارڈ کا اسلحہ لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔میررضا نے 4 بج کے 22 منٹ کے قریب جوہر موڑ ہل ٹاپ کے قریب اپنا موبائل فون بھی بند کرلیا اور 4 بج کر28 منٹ وہ گلستان جوہر بلاک 2 میں ڈراپ ہوا. تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس ختم کردیے تھے اور گھر سے نکلنے سے قبل والد کے اکاؤنٹ میں ڈھائی لاکھ روپے بھی منتقل کیے تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ میر رضا نے اپنا موبائل فون راستے میں پھینک دیا تھا جو یونیورسٹی روڈ پر کام کرنے والے 3 مزدوروں کو ملا تھا پولیس نے مزدوروں کو ٹریس کیا اور موبائل فون برآمد کرلیاتفتیشی ذرائع کے مطابق پولیس نے میررضا کی منگیترکا بیان بھی قلمبند کرلیا ہے. تفتیشی ذرائع کا کہنا ہےکہ 28 جولائی کی رات ساڑھے 11 بجے تک میر رضا کی منگیتراس سے رابطے تھی رات 3 بجے کے قریب میررضا کی منگیتر نے دوبارہ رابطہ کیا اور 20 منٹ میں 40 سے زائد میسیجز اور کالز کیں، منگیترکی کالز اور میسیجز پر میررضا نے کوئی جواب نہیں دیا۔تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا وافلکس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کرنسی کا کاروبار بھی کر رہا تھا اور متعدد افراد کی سرمایہ کاری بھی اسی کے ذریعے کی گئی تھی۔وہ سرمایہ کاروں کو وقفے وقفے سے منافع ادا کرتا رہا تاہم دسمبر 2025 سے کاروبار میں نقصان شروع ہوا اور اپریل میں اسے بڑا مالی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ذرائع کے مطابق نقصان پورا کرنے کے لیے اس نے مختلف افراد سے قرض لینا شروع کیا اور مبینہ طور پر 5 سے 8 کروڑ روپے تک کا مقروض ہوگیا. اس نے بیرون ملک مقیم اپنے ایک دوست سے 75 لاکھ روپے انویسمنٹ بھی کرائی لیکن اسے منافع ادا نہیں کیا۔ ابتدائی تحقیقات میں موبائل یا دیگر سامان چھینے جانے کے شواہد نہیں ملے۔ ذرائع کے مطابق میر رضا علی گھر سے نکلنے سے قبل کچھ رقم منتقل کر گئے تھے اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی ڈیلیٹ کر دیے تھے۔ پولیس نے فون ریکارڈ، رابطوں کی تفصیلات، مالی لین دین اور ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ تمام دستیاب شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک رپورٹس اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں، جبکہ کیس کا حتمی نتیجہ مزید شواہد اور مکمل تفتیش کے بعد ہی سامنے آئے گا

اپنا تبصرہ لکھیں