کراچی کے مقتول نوجوان علی رضاکی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف

کراچی میں 25 سالہ نوجوان تاجر میر علی رضا کے اغوا اور قتل کا معمہ اب تک حل نہیں ہو پایا ہے۔گلستانِ جوہر سے ملنے والی انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے گریجویٹ اور نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی لاش کے معائنے اور تفتیش کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی تفصیلات کے مطابق 25 سالہ علی رضا کی موت سینے میں ایک گولی لگنے اور شدید خون بہنے کی وجہ سے ہوئی۔تفتیشی حکام کو اندھے قتل کے اس کیس میں جائے وقوعہ سے تقریباً 200 گز کے فاصلے سے مقتول کا گمشدہ موبائل فون اور پستول کا ہولسٹر بھی ملا ہے۔تفتیشی ذرائع نے بتایا ہے کہ پوسٹ مارٹم میں لاش کو جلائے جانے کے شواہد نہیں ملے تاہم گرمی اور وقت گزرنے کی وجہ سے جسم پر گلنے سڑنے کے آثار موجود تھے.پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کی لاش ملنے سے ایک روز قبل ان کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پراسرار طور پر بند کر دیے گئے تھے پولیس نے ٹیلی کام کمپنی سے فون ریکارڈ اور رابطوں کا ڈیٹا بھی طلب کر لیا گیا ہے۔مقتول کے والد میر حسین علی نے پولیس کو واقعے کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا بیٹا وافلکس کا بانی تھا اور گزشتہ پانچ برسوں سے اپنا کاروبار چلا رہا تھا۔ 28 جولائی کی شب وہ اپنی دکان سے گھر واپس آیا اور والدہ سے یہ کہہ کر باہر نکلا کہ وہ 10 منٹ میں گھر کے نیچے سے ہو کر واپس آتا ہے لیکن پھر واپس نہیں لوٹا۔ ایک روز بعد 29 جولائی کو گلستانِ جوہر کے بلاک ون سے جھاڑیوں سے ان کی لاش ملی.پولیس کے مطابق، آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کو شاملِ تفتیش کر کے بیان لیا گیا ہے جس کے مطابق میر رضا نے 28 جولائی کی صبح 4 بجکر 9 منٹ پر پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی سے ٹیکسی لی تھی اور انہیں گلستانِ جوہر میں اتارا گیا تھا.مقتول کے والد نے بتایا کہ میر رضا کا اگست میں نکاح طے تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔میر حسین علی کا کہنا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی یا لین دین کا تنازع نہیں تھا.

اپنا تبصرہ لکھیں