کراچی کے کبوتر چوک صحت کے لیے خطرہ بن گئے ماہرین نے خبردار کردیا۔ماہرین کے مطابق کبوتروں کے فضلے، پروں اور ان سے اڑنے والے باریک ذرات میں بیکٹیریا، فنگس اور دیگر جراثیم موجود ہوسکتے ہیں جو انسانی جسم میں داخل ہوکر الرجی اور پھیپھڑوں کے انفیکشن سمیت مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔کراچی کے ایم اے جناح روڈ،صدر،بولٹن مارکیٹ،لی مارکیٹ، برنس روڈ، لیاقت آباد، ناظم آباد، ملیر اور دیگرعلاقوں میں تقریباً 20 سے 30 کبوترچوک قائم ہیں جہاں روزانہ 10 سے 20 ہزارشہری کبوتروں کو دانہ ڈالنے آتےہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ کبوتروں کو دانہ ڈالنے کا نہیں بلکہ ان مقامات پر صفائی کے مؤثر نظام اور مناسب احتیاط کی ضرورت ہے۔ان مقامات پرہزاروں جنگلی کبوترجمع ہوتے ہیں۔ شہریوں کے لیےکبوتروں کو دانہ ڈالنا روحانی سکون، شوق اورمحبت کی علامت ہے،تاہم ماہرین صحت نے پرندوں کےغیرمعمولی ہجوم کے باعث ممکنہ صحت کے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ماہرین کے مطابق اس روایت کے ساتھ صفائی، احتیاط اور ذمہ داری کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ محبت کا یہ منظر انسانی صحت کے لیے خطرہ نہ بنے۔