پاکستان کا ترقیاتی بجٹ کہاں جاتا ہے

تحریر : سراج احمد
پاکستان میں جب بھی بجٹ پیش ہوتا ہے تو ہم کھربوں روپے کے اعداد سنتے ہیں۔ حکومتیں دعویٰ کرتی ہیں کہ سڑکیں بنیں گی اسپتال بہتر ہوں گے پانی کے منصوبے مکمل ہوں گے اسکول اور یونیورسٹیاں قائم ہوں گی اور عوام کو بہتر سہولتیں ملیں گی لیکن چند ماہ بعد جب ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اتنا پیسہ مختص کیا گیا تھا تو یہ سب کچھ نظر کیوں نہیں آتا کیا پاکستان کے پاس پیسے کم ہیں یا اصل مسئلہ کچھ اور ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ بجٹ کم ہوتا ہے بلکہ یہ ہے کہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ خرچ ہی نہیں ہو پاتا اور اس کی کیا وجہ ہے
یہ سن کر آپ کو شاید حیرت ہو لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہر سال وفاقی اور صوبائی حکومتیں اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرتی ہیں مگر ان میں سے بڑا حصہ استعمال ہونے سے رہ جاتا ہے۔اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ پاکستان میں ہر سال اربوں نہیں بلکہ بعض اوقات کھربوں روپے ایسے ہوتے ہیں جو عوام کی ترقی پر خرچ ہونے کے بجائے فائلوں، منظوریوں اور تاخیر کی نذر ہو جاتے ہیں تو شاید آپ کو یقین نہ آئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ترقیاتی نظام کا ایک بڑا مسئلہ صرف پیسے کی کمی نہیں بلکہ پیسے کو خرچ نہ کر پانا ہے۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ حکومت کے پاس وسائل نہیں خزانہ خالی ہے قرضے بڑھ رہے ہیں اور ملک مالی مشکلات کا شکار ہے لیکن کہانی کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جو وسائل موجود ہوتے ہیں ان کا ایک بڑا حصہ بھی بروقت استعمال نہیں ہو پاتا۔ہر سال بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔ کھربوں روپے کے اعلانات ہوتے ہیں۔ نئی سڑکوں، موٹرویز، اسپتالوں، اسکولوں، یونیورسٹیوں، ڈیموں، پانی کی اسکیموں، ٹرانسپورٹ منصوبوں اور دیگر ترقیاتی پروگراموں کے وعدے کیے جاتے ہیں۔ عوام امید باندھ لیتے ہیں کہ شاید اب ان کے علاقے میں کوئی تبدیلی آئے گی۔ لیکن پھر سال گزر جاتا ہے اور بہت سے منصوبے یا تو شروع ہی نہیں ہوتے یا سست روی کا شکار رہتے ہیں۔
مالی سال 2025-26 میں وفاقی حکومت نے تقریباً ایک کھرب روپے کا ترقیاتی پروگرام رکھا۔ پنجاب نے ایک کھرب چوبیس ارب روپے سے زائد، سندھ نے ایک کھرب روپے سے زیادہ، خیبر پختونخوا نے سینکڑوں ارب روپے اور بلوچستان نے تقریباً ڈھائی سو ارب روپے کے قریب ترقیاتی بجٹ مختص کیا اگر ان تمام رقوم کو جمع کیا جائے تو ملک بھر میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے کئی کھرب روپے مختص کیے جا رہے ہیں بظاہر یہ ایک بڑی رقم ہے اور سننے والے کو لگتا ہے کہ اب ملک میں ترقی کی رفتار بہت تیز ہو جائے گی۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ کتنی رقم رکھی گئی بلکہ یہ ہے کہ کتنی رقم خرچ ہوئی پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے اعداد و شمار دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ترقیاتی بجٹ کا مکمل استعمال ایک مستقل مسئلہ رہا ہے۔ بعض سالوں میں وفاقی حکومت اپنے ترقیاتی بجٹ کا ستر فیصد خرچ کر سکی بعض سالوں میں ساٹھ فیصد کے قریب اور بعض اوقات اس سے بھی کم رہا ہے صوبوں کی صورتحال بھی ملتی جلتی رہی ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا نسبتاً بہتر کارکردگی دکھاتے رہے ہیں اور اکثر اپنے ترقیاتی بجٹ کا ساٹھ سے پینسٹھ فیصد تک استعمال کر لیتے ہیں جبکہ سندھ اور بلوچستان میں کئی مرتبہ استعمال کی شرح پچاس فیصد کے آس پاس یا اس سے بھی کم رہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک کھرب روپے کا ترقیاتی پروگرام بنایا جائے تو بعض اوقات اس میں سے چالیس یا پچاس ارب روپے استعمال ہی نہیں ہو پاتے
یہ رقم آخر جاتی کہاں ہے کیا حکومت کے پاس پیسے نہیں ہوتے تاہم اکثر ایسا نہیں ہوتا اصل مسئلہ منصوبوں کے عملدرآمد کا ہوتا ہے پاکستان میں بہت سے منصوبے اعلان کے وقت مکمل تیاری کے بغیر شروع کر دیے جاتے ہیں۔ سیاسی قیادت اعلان کر دیتی ہے لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ زمین دستیاب نہیں، فزیبلٹی مکمل نہیں ڈیزائن تیار نہیں ماحولیاتی منظوری نہیں ملی یا متعلقہ اداروں کے درمیان اختیارات کا تنازع موجود ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ منصوبہ کاغذوں میں موجود رہتا ہے لیکن زمین پر اس کی رفتار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اب سوال یہ ہے کہ منصوبے تاخیر کا شکار کیوں ہوتے ہیں پہلی وجہ ناقص منصوبہ بندی ہے دنیا کے کامیاب ممالک نے ترقی صرف اس لیے نہیں کی کہ ان کے پاس زیادہ وسائل تھے بلکہ اس لیے کی کہ وہ اپنے وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہوئے۔ جنوبی کوریا، سنگاپور اور ملائیشیا جیسے ممالک پہلے منصوبہ تیار کرتے ہیں اور بعد میں بجٹ مختص کرتے ہیں۔ پاکستان میں اکثر پہلے بجٹ مختص کیا جاتا ہے اور بعد میں منصوبہ تیار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے پاکستان میں اکثر منصوبے مکمل تیاری کے بغیر بجٹ میں شامل کر دیے جاتے ہیں۔ دوسری وجہ بیوروکریسی کی پیچیدگی ہے۔ ایک منصوبے کی منظوری کے لیے کئی محکموں، وزارتوں اور اداروں سے گزرنا پڑتا ہے۔ تیسری وجہ زمین کے حصول کے مسائل ہیں چوتھی وجہ عدالتی مقدمات ہیں۔ پانچویں وجہ سیاسی تبدیلیاں ہیں جب حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں تو بعض اوقات ترجیحات بھی تبدیل ہو جاتی ہیں اور پہلے سے جاری منصوبے سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں ایک اور اہم عنصر نیب کا نظام ہے پاکستان میں کئی سابق سرکاری افسران یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ نیب کے خوف نے فیصلہ سازی کو متاثر کیا افسران کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ اگر انہوں نے کسی منصوبے پر دستخط کر دیے اور بعد میں اس پر اعتراض آ گیا تو انہیں قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے چنانچہ بعض افسران رسک لینے کے بجائے فائلوں کو آگے بڑھانے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبے سست ہو جاتے ہیں خاص طور پر 1999 کے بعد اور پھر 2000 اور 2010 کی دہائیوں میں احتسابی اداروں، بالخصوص نیب کے کردار پر یہ بحث ہوتی رہی کہ بہت سے سرکاری افسران نے فائلوں پر دستخط کرنے اور بڑے منصوبوں کی منظوری دینے سے گریز شروع کر دیااس کی وجہ یہ تھی کہ ایک افسر کو یہ خدشہ رہتا تھا کہ آج جو فیصلہ وہ قومی مفاد میں کر رہا ہے، چند سال بعد اسی فیصلے کی تحقیقات شروع ہو سکتی ہیں نتیجتاً بیوروکریسی میں فیصلہ سازی کا مفلوج ہو گئی بہت سے افسران نے کام کرنے کے بجائے فائل روکنے کو زیادہ محفوظ سمجھا کیونکہ غلط فیصلہ کرنے کی سزا تھی لیکن فیصلہ نہ کرنے کی کوئی سزا نہیں تھی
اس سلسلے میں اگر ہم صرف کراچی کی مثال لیں تو صورتحال واضح ہو جاتی ہے کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر سب سے بڑا معاشی مرکز اور سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے لیکن یہی شہر پانی، سیوریج اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کا شکار ہے کے فور منصوبے کا اعلان تقریباً ایک دہائی پہلے کیا گیا تھا تاکہ کراچی کو اضافی پانی فراہم کیا جا سکے ابتدائی لاگت چند درجن ارب روپے تھی لیکن تاخیر، ڈیزائن میں تبدیلیوں، اداروں کے اختلافات اور انتظامی مسائل کے باعث اس کی لاگت کئی گنا بڑھ گئی اس دوران کراچی کے شہری پانی کے بحران سے دوچار رہے ہیں اسی طرح بی آر ٹی کے منصوبوں کی مثال موجود ہے جن میں تاخیر سے نہ صرف منصوبوں کی لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا بلکہ شہروں کو ٹریفک کے درد ناک مسائل کا سامنا ہےاسی طرح اگر ایم ایل ون ریلوے منصوبے کو دیکھیں تو اسے پاکستان کے سب سے بڑے منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد کراچی سے پشاور تک ریلوے نظام کو جدید بنانا تھا۔ منصوبے پر برسوں سے بات ہو رہی ہے مختلف حکومتیں اسے اپنی کامیابی قرار دیتی رہی ہیں لیکن فنانسنگ، مذاکرات، منظوریوں اور دیگر معاملات کی وجہ سے یہ منصوبہ ابھی تک مکمل رفتار سے شروع نہیں ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملک کا ریلوے نظام آج بھی اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہا داسو ڈیم کی مثال بھی دلچسپ ہے یہ منصوبہ پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے تاہم زمین کے حصول، سکیورٹی مسائل، مالی معاملات اور انتظامی پیچیدگیوں کے باعث اس منصوبے کو بھی متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اگرچہ اس پر کام جاری ہے لیکن تاخیر کی وجہ سے لاگت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا جبکہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ شاید پاکستان میں تاخیر اور لاگت بڑھنے کی سب سے مشہور مثالوں میں سے ایک ہے منصوبہ برسوں تاخیر کا شکار رہا اس کی لاگت کئی گنا بڑھ گئی اور بعد ازاں تکنیکی مسائل بھی سامنے آئے اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ تاخیر صرف وقت کا نقصان نہیں بلکہ قومی وسائل کا بھی نقصان ہوتی ہے
منصوبوں کی تاخیر کا سب سے بڑا نقصان لاگت میں اضافہ ہے فرض کریں آج ایک منصوبہ سو ارب روپے میں مکمل ہو سکتا ہے اگر وہ پانچ یا دس سال تاخیر کا شکار ہو جائے تو مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافہ اور دیگر عوامل کی وجہ سے اس کی لاگت دو سو یا تین سو ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے یعنی وہی کام جو پہلے کم رقم میں ہو سکتا تھا اب کئی گنا زیادہ مہنگا ہو جاتا ہے لیکن اس سے بھی بڑا نقصان عوام کو ہوتا ہے جب ایک ارب روپے خرچ نہیں ہوتے تو صرف ایک ارب روپے بچتے نہیں بلکہ ایک موقع ضائع ہو جاتا ہے ایک اسپتال نہیں بنتا ایک اسکول مکمل نہیں ہوتا ایک سڑک ادھوری رہ جاتی ہے ایک پانی کی اسکیم التوا کا شکار ہو جاتی ہے ایک پل تعمیر نہیں ہوتا اور ہزاروں یا لاکھوں شہری اس سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔پاکستان کی ترقی کے حوالے سے شاید سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا ہمیں زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے یا بہتر نظام کی ہے اگر کوئی ادارہ ایک سو ارب روپے بھی مؤثر طریقے سے خرچ نہیں کر پا رہا تو اسے دو سو ارب روپے دے دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اصل ضرورت بہتر منصوبہ بندی، مضبوط اداروں، پیشہ ورانہ صلاحیت، شفاف ٹینڈرنگ، جدید مانیٹرنگ سسٹم اور مؤثر نگرانی کی ہے
لہٰذا اگلی بار جب آپ بجٹ میں کھربوں روپے کے اعلانات سنیں تو صرف یہ نہ دیکھیں کہ کتنی رقم رکھی گئی ہے بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ گزشتہ سال مختص شدہ رقم میں سے کتنی رقم خرچ ہوئی تھی کتنے منصوبے وقت پر مکمل ہوئے تھے اور کتنے ابھی تک زیر التوا ہیں کیونکہ پاکستان کا اصل مسئلہ شاید فنڈز کی کمی نہیں بلکہ ان فنڈز کو مؤثر، شفاف اور بروقت خرچ نہ کر پانا ہے جب تک اس مسئلے کا حل نہیں نکالا جاتا ترقیاتی بجٹ بڑھتے رہیں گے منصوبوں کے اعلانات ہوتے رہیں گے قرضے بھی بڑھتے رہیں گے لیکن عوام کو وہ نتائج نہیں مل سکیں گے جن کی انہیں امید ہوتی ہے اور شاید یہی وہ سوال ہے جو پاکستان کے ہر ٹیکس دہندہ کو اپنے حکمرانوں سے پوچھنا چاہیے کہ آخر مختص شدہ اربوں اور کھربوں روپے عوام تک کیوں نہیں پہنچتے

اپنا تبصرہ لکھیں