کراچی کا پانی ٹینکر مافیا لے گئی

تحریر : سراج احمد
کراچی پاکستان کی معیشت کا دل اور کروڑوں لوگوں کا مسکن ہے . مگر ایک ایسا شہر جہاں آج بھی لاکھوں لوگ پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترستے ہیں اور جہاں شہری صرف بجلی، ٹریفک اور مہنگائی سے نہیں لڑتے بلکہ روزانہ پانی کی جنگ بھی لڑتے ہیں۔جہاں کروڑوں لوگ بستے ہیں مگر لاکھوں گھروں کے نل خشک ہیں.سب سے دلچسپ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کے شہری پانی کا ٹیکس بھی دیتے ہیں۔چاہے لائن میں پانی آئے یا نہ آئے.واٹر بورڈ کا بل آتا ہے۔یعنی شہری واٹر ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں.پانی کے لئے بورنگ بھی خود کرواتے ہیں اور مجبوری میں واٹر ٹینکر بھی خریدتے ہیں۔ کراچی کے لئے پانی کینجھر جھیل اور حب ڈیم سے بڑی بڑی مین لائنوں کے ذریعے شہر میں لایا جاتا ہے۔ جہاں سے یہ لائنیں شہر کے مختلف حصوں تک پانی پہنچاتی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اگر پانی شہر میں داخل ہو رہا ہے تو پھر لاکھوں گھروں کی لائنیں خشک کیوں ہیں اور شہر تک پہنچنے سے پہلے پانی کہیں غائب ہو جاتا ہے جس علاقے میں لائن کا پانی بند ہوتا ہے وہاں ٹینکر فوراً دستیاب ہو جاتا ہے. یہی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پانی موجود نہیں تو ٹینکر کہاں سے بھر ے جارہے ہیں ہیں.لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر ہم واٹر ٹیکس دیتے ہیں تو پانی کیوں نہیں ملتا
کراچی شاید دنیا کے اُن چند بڑے شہروں میں شامل ہے جہاں متوسط طبقہ بھی مستقل طور پر پانی خریدنے پر مجبور ہے۔بعض خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ صرف پانی پر خرچ کرتے ہیں۔گرمیوں میں تو صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔واٹر ٹینکر کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں.اور کئی علاقوں میں لوگ احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔لیکن پھر بھی بحران جوں کا توں رہتا ہے۔ایسا شہر جہاں شہری رات کے دو دو بجے موٹر چلاتے ہیں ڈرم بھر کر رکھتے ہیں بچے اسکول جانے سے پہلے پانی کی بالٹیاں اٹھاتے ہیں اور گھروں میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوتا کہ بجلی کب آئے گی یہ پوچھا جاتا ہے کہ پانی کب آئے گا.کراچی کو روزانہ تقریباً بارہ سو ملین گیلن پانی کی ضرورت ہوتی ہے مگر شہر کو اس سے کہیں کم پانی ملتا ہے۔کیا واقعی پانی نہیں ہےیا پھر پانی موجود ہے مگر شہر تک پہنچنے سے پہلے کہیں غائب ہو جاتا ہے. یہاں سوال یہ ہے کہ آخر کراچی میں پانی جاتا کہاں ہے.یہیں سے شروع ہوتی ہے کراچی کے ٹینکر مافیا کی کہانی۔کراچی میں واٹر ہائیڈرینٹس کا نظام ابتدا میں ایک ہنگامی حل کے طور پر بنایا گیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ جہاں لائن کا پانی نہ پہنچ سکے وہاں ٹینکرز کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے۔مگر وقت کے ساتھ یہ ہنگامی حل ایک بہت بڑی انڈسٹری بن گیا۔سرکاری ہائیڈرینٹس کم ہوتے گئے اور غیر قانونی ہائیڈرینٹس بڑھتے گئے۔مختلف رپورٹس میں کبھی 70، کبھی 100 اور کبھی 200 سے زائد غیر قانونی ہائیڈرینٹس کا ذکر سامنے آیا۔
یہ وہ غیر قانونی ہائیڈ ڈرنٹس جہاں سے مین لائنوں سے پانی چوری کرکے واٹر ٹینکرز میں بھرا جاتا ہے۔اور جب مین لائن سے غیر قانونی طور پر پانی کھینچا جاتا ہے تو اُس کا پریشر کم ہو جاتا ہے۔اور جب پریشر کم ہوتا ہے تو لائن کے آخری علاقوں تک پانی پہنچنا بند ہو جاتا ہے۔اسی لیے کراچی کے بہت سے علاقے مسلسل بحران کا شکار رہتے ہیں۔اورنگی ٹاؤن، بلدیہ، کورنگی، لانڈھی، سرجانی نیو کراچی، نارتھ کراچی گلستان جوہر گلشن اقبال ، گلشن حدید ،لیاری اور بن بن قاسم سمیت کئی ایسے علاقے ہیں جہاں کئی کئی دن پانی نہیں آتا۔
یہ کہانی صرف پانی کی قلت کی نہیں بلکہ یہ کہانی ہے ایک ایسے نظام کی ہے جہاں پانی بھی کاروبار اور بعض کے لیے سونے کی کان بن چکا ہے۔کئی علاقوں میں لوگ ہفتے میں صرف ایک بار پانی ملنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔اور پھر مجبوری میں یہی لوگ ٹینکر خریدتے ہیں۔یہاں ایک دلچسپ مگر تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ کہ جس علاقے میں لائن کا پانی بند ہوتا ہے وہاں ٹینکر فوراً دستیاب ہو جاتا ہے۔یہی سوال برسوں سے کراچی کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ اگر پانی موجود نہیں تو ٹینکر کہاں سے بھرے جارہے ہیں الزامات یہ ہیں کہ بعض طاقتور گروہ مین لائنوں میں غیر قانونی کنکشن لگاتے ہیں۔بعض جگہ زیر زمین والوز نصب کیے جاتے ہیں۔پھر موٹروں کے ذریعے پانی کھینچ کر ہائیڈرینٹس تک پہنچایا جاتا ہے۔اور وہاں سے یہی پانی ہزاروں روپے میں فروخت ہوتا ہے۔گویا شہریوں کو اُنہی کے حصے کا پانی واپس بیچا جاتا ہے۔کراچی میں پانی اب ہ مکمل معیشت بن چکا ہے۔ایک ایسا کاروبار جس میں ٹینکر مالکان، غیر قانونی کنکشن چلانے والے عناصر، بعض کرپٹ اہلکار اور مبینہ سیاسی سرپرستی تک کے الزامات لگتے رہے ہیں۔سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ خفیہ نہیں ہوتا۔بڑے بڑے ٹینکر دن رات سڑکوں پر چلتے ہیں۔ہائیڈرینٹس کے باہر قطاریں لگی ہوتی ہیں۔شہری جانتے ہیں کہاں پانی چوری ہوتا ہے۔مگر اس کے باوجود یہ نظام ختم نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ کراچی میں اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ٹینکر مافیاصرف چند افراد کا گروہ نہیں بلکہ ایک پورا نیٹ ورک ہے۔کیونکہ اس بحران سے کچھ لوگوں کے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔جتنا پانی کم ہوگا.جتنی لائنیں خشک ہوں گی اتنا ہی ٹینکر کا کاروبار بڑھے گا۔بعض مبصرین کے مطابق اگر شہر میں پانی کی منصفانہ تقسیم شروع ہو جائے اگر غیر قانونی کنکشن ختم کر دیے جائیں اور اگر لائنوں کی مرمت ہو جائے تو ٹینکر انڈسٹری کا بڑا حصہ خود بخود ختم ہو سکتا ہے۔مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں ایک اور اہم پہلو بھی موجود ہے۔کراچی کی آبادی تیزی سے بڑھی مگر پانی کا انفراسٹرکچر تقریباً وہی رہا۔کئی لائنیں 40 سے 60 سال پرانی ہیں۔لیکج بہت زیادہ ہے۔کہا جاتا ہے کہ شہر کا بڑا حصہ پانی راستے میں ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ اور یہاں پرایک اور خطرناک مسئلہ سامنے آتا ہے پانی میں سیوریج کے مکس ہونے کا۔جب لائنوں میں پریشر کم ہوتا ہے تو ٹوٹی ہوئی پائپ لائنوں سے گندا پانی اندر داخل ہونے لگتا ہے۔لوگوں کے گھروں میں آنے والا پانی آلودہ ہو جاتا ہے۔ جس کے باعث کراچی میں ہیضہ ،ٹائیفائیڈ ،جلدی بیماریاں اور معدے کے مسائل بار بار سامنے آتے ہیں۔
کراچی میں آج صورتحال یہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں لائن کا پانی نہیں آتا تو شہریوں کے پاس صرف دو راستے بچتے ہیں یا تو مہنگا ٹینکر خریدیں.یا پھر زمین کا کھارا اور مضر صحت پانی استعمال کریں۔اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے کراچی کے پانی بحران کو صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ صحت، معیشت اور سماجی ناانصافی کا بحران بنا دیا ہے۔کراچی میں لاکھوں شہری بورنگ کا پانی استعمال کرتے ہیں۔گھروں میں چھوٹے بڑے بور کرائے جاتے ہیں موٹریں لگائی جاتی ہیں اور زیر زمین پانی نکالا جاتا ہے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ شہر کے بیشتر علاقوں میں زیر زمین پانی نہ صرف کھارا ہے بلکہ کئی جگہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ بھی سمجھا جاتا ہے۔بعض علاقوں میں یہ پانی اتنا نمکین ہوتا ہے کہ کپڑے خراب ہو جاتے ہیں،پائپ لائنیں زنگ آلود ہو جاتی ہیں،موٹریں جلد خراب ہوتی ہیں،اور جلد و معدے کی بیماریاں بڑھنے لگتی ہیں۔لوگ یہی پانی نہانے، کپڑے دھونے، برتن صاف کرنے اور بعض اوقات مجبوری میں پینے تک کے لیے استعمال کرتے ہیں۔کراچی کے کئی علاقوں میں شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر لائن کا پانی کئی دن نہ آئے تو بورنگ کا کھارا پانی ہی آخری سہارا ہوتا ہے۔اور پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ ٹینکر کیوں نہیں خرید لیتے.اس کا جواب کراچی کا ہر متوسط اور غریب خاندان جانتا ہے۔کیونکہ ٹینکر اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔گرمیوں میں ایک ٹینکر کی قیمت کئی ہزار روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
چھوٹے گھروں کے لیے بھی پانی خریدنا مستقل مالی بوجھ بن چکا ہے۔بعض خاندان مہینے کا بڑا حصہ صرف پانی پر خرچ کرتے ہیں۔سب سے دلچسپ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کے شہری پانی کا ٹیکس بھی دیتے ہیں۔چاہے لائن میں پانی آئے یا نہ آئے کراچی میں ماضی میں صورتحال کچھ مختلف تھی۔کئی علاقوں میں واٹر بورڈ کی جانب سے نسبتاً کم قیمت یا تقریباً مفت ٹینکر فراہم کیے جاتے تھے. خاص طور پر بحران کے دنوں میں یہ سہولت دستیاب تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ واٹر بورڈ نے بھی پانی کے ٹینکرز کو کمائی کاذریعہ بنا لیا یعنی پانی کا ٹیکس بھی لینا اور پانی نہ ہونے پر ٹینکر کا معاوضہ بھی وصول کرنا اور واٹر بورڈ کا ٹینکر لینا بھی جوئے شیر سے کم نہیں.آج صورتحال یہ ہے کہ سرکاری اداروں سے بھی ٹینکر مہنگے داموں لینے پڑتے ہیں اور وہ بھی اثر و رسوخ کے بعد .یعنی جس ادارے کا کام پانی فراہم کرنا تھا وہی شہریوں کے لیے مہنگی سپلائی کا ذریعہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔اسی لیے کراچی میں ایک تلخ جملہ عام ہو چکا ہے.یہاں پانی نہیں تعلقات چلتے ہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت بھی ہے اگر آپ کے پاس اثر و رسوخ ہے اور لائین مین سے تعلق ہے تو آپ کےعلاقے کے وال کھلتے رہیں اور تو پانی مل جائے گا۔یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی علاقے کی چند گلیوں میں پانی وافر دستیاب ہے جبکہ دوسری گلیاں پانی سے محروم ہے کہیں سیاسی اثر رسوخ ہے تو کہیں مالی مفاد کی چمک ہے. کراچی میں شہری یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ بعض علاقوں میں جان بوجھ کر لائن کا پریشر کم رکھا جاتا ہے تاکہ لوگ ٹینکر خریدنے پر مجبور ہوں۔
پوش علاقوں میں پانی کے بحران کی قیمت بھی متوسط اور غریب شہری برداشت کرتے ہیں جب ڈیفنس یا کلفٹن جیسے پوش علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات باقی شہر تک محسوس کیے جاتے ہیں۔کیونکہ ایسے مواقع پرٹینکرز کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور بڑے پیمانے پر پانی انہی علاقوں کی طرف منتقل ہوتا ہے جبکہ شہر کے متوسط و غریب علاقوں میں ٹینکر مزید مہنگے یا نایاب ہو جاتے ہیں یعنی ایک طرف وہ علاقے ہیں جہاں لوگ مہنگے ٹینکر خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور دوسری طرف وہ بستیاں جہاں لوگ کھارا بورنگ پانی پینے پر مجبور ہوتے ہیں . اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں کراچی کا پانی بحران صرف انتظامی ناکامی نہیں رہتا بلکہ سماجی ناانصافی بن جاتا ہے۔ پانی بنیادی حق ہےمگر کراچی میں یہ حق آہستہ آہستہ ایک مہنگی سہولت بنتا جا رہا ہے۔آج بھی شہر کے لاکھوں لوگ ایک ایسے نظام میں زندہ ہیں جہاں لائنیں موجود ہیں مگر پانی نہیں ہے متبادل کے طور پر ٹینکر مافیا ہے جنہیں وافر مقدار میں پانی دستیاب ہے اور ان کے لئے پانی کی کوئی قلت نہیں ہے .
پانی کے لئے ٹینکر موجود ہیں مگر قیمت بہت زیادہ ہے سرکاری منصوبے موجود ہیں مگر عملدرآمد نہ ہونے لے برابر ہے .ہر حکومت پانی بحران ختم کرنے کے دعوے کرتی ہے۔نئے منصوبوں کا اعلان ہوتا ہے۔کے فور جیسے منصوبوں کی بات ہوتی ہے۔بجٹ منظور ہوتے ہیں۔منصوبوں کی لاگت بڑھتی جاتی ہے وفاق اور صوبہ ایک دوسرے پر تاخیر کا الزام لگاتے رہتے ہیں لیکن بحران باقی رہتا ہے کراچی کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ یہاں پانی کا بحران سب کو نظر آتا ہے. مگر عام شہری کے نل میں پانی پھر بھی نہیں آتا۔بعض مبصرین کے مطابق اگر شہر میں پانی کی منصفانہ تقسیم شروع ہو جائے، اگر غیر قانونی کنکشن ختم کر دیے جائیں اور اگر لائنوں کی مرمت ہو جائے تو ٹینکر مافیا کا بڑا حصہ خود بخود ختم ہو سکتا ہے۔مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ جب تک غیر قانونی ہائیڈرینٹس،پانی کی چوری،سیاسی سرپرستی،انتظامی خاموشی،اور بوسیدہ انفراسٹرکچر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا.تب تک کراچی میں پانی صرف ایک ضرورت نہیں رہے گا بلکہ روزانہ کی جنگ بنا رہے گا۔ایک ایسی جنگ جو ہر صبح نل کھولنے سے شروع ہوتی ہےاور ہر رات خالی ٹینکی کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے ۔ کراچی کے شہریوں کی روزمرہ زندگی دیکھیں تو صبح فجر سے پہلے موٹر چلانے کی آوازیں ،گلیوں میں بچھے ہوئےپائپ.گھروں کی چھتوں پر بڑے بڑے واٹر ٹینک اور ہر محلے میں پانی کی بحث۔کراچی شاید دنیا کے اُن چند بڑے شہروں میں شامل ہے جہاں متوسط طبقہ بھی مستقل طور پر پانی خریدنے پر مجبور ہے۔بعض خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ صرف پانی پر خرچ کرتے ہیں۔
کراچی میں شہریوں کا سب سے بڑا شکوہ صرف قلت نہیں بلکہ ناانصافی ہے۔لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر ہم واٹر ٹیکس دیتے ہیں تو پانی کیوں نہیں ملتااگر پانی موجود نہیں تو ٹینکر کہاں سے بھر ے جارہے ہں اور اگر بحران اتنا شدید ہے تو غیر قانونی ہائیڈرینٹس بند کیوں نہیں ہوتے.اور اگر مسئلہ واقعی صرف پانی کی قلت ہے تو پھر کچھ علاقوں میں سپلائی بہتر کیوں رہتی ہےیہ سوال برسوں سے موجود ہیں مگر ان کے جواب آج بھی باقی ہیں اسی لیے کراچی میں ٹینکر مافیا کا لفظ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں رہا بلکہ شہریوں کے روزمرہ تجربے کا حصہ بن چکا ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ جتنا بحران بڑھے گا.اتنا ہی پانی کا کاروبار چلے گا۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب کبھی لائن کا پانی مکمل بند ہو جاتا ہے تو شہریوں کو سب سے پہلے ٹینکر والوں کے نمبر یاد آتے ہیں حکومت کے نہیں۔کراچی شاید دنیا کے اُن چند شہروں میں شامل ہے جہاں آبادی بڑھی تو پانی کم پڑ گیا لائنیں بوسیدہ ہو گئیں اور ٹینکر سسٹم ایک بڑی کاروباری صنعت بن گیا ہے.کراچی شاید دنیا کے اُن چند شہروں میں شامل ہے جہاں شہری سرکاری پانی کے بل بھی دیتے ہیں پھر بھی پانی خریدتے ہیں اور اور آخر میں کھارا بورنگ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔یہ صرف انفراسٹرکچر کی ناکامی نہیں بلکہ شہری نظام کے ٹوٹنے کی علامت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں