تحریر :سراج احمد
پاکستان میں جب بھی کوئی بڑا فضائی حادثہ پیش آتا ہے تو سرکاری تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر درجنوں کہانیاں گردش کرنے لگتی ہیں کچھ لوگ اسے تکنیکی خرابی قرار دیتے ہیں کچھ تخریب کاری کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں جبکہ کچھ اسے بین الاقوامی سازش سے جوڑ دیتے ہیں۔ کراچی کے قریب بحیرۂ عرب میں گرنے والے کارگو طیارے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ چند گھنٹوں کے اندر اندر ویڈیوز، پوسٹس اور تجزیے سامنے آنا شروع ہوگئے۔ کسی نے کہا کہ یہ جی پی ایس جیمنگ کا نتیجہ ہے کسی نے دعویٰ کیا کہ طیارہ حساس سامان لے جا رہا تھا اور کچھ لوگوں نے اسے خطے کی موجودہ کشیدگی سے جوڑ دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اب تک حقیقت کیا سامنے آئی ہے کیا واقعی اس حادثے کے پیچھے کوئی غیر معمولی راز چھپا ہوا ہے یا پھر ایک افسوسناک فضائی حادثے کو افواہوں اور قیاس آرائیوں نے پراسرار بنا دیا ہے
دستیاب معلومات کے مطابق یہ ایک بوئنگ مال بردار طیارہ تھا جو نجی کارگو کمپنی کے ٹو ائیر لائنز کا بتایا جاتا ہے یہ طیارہ متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے کراچی آ رہا تھا طیارے میں مسافر نہیں بلکہ عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔ منگل کی شب نوبجکر اکیس منٹ پر اورماڑہ کے قریب دورانِ پرواز پائلٹ نے فضائی کنٹرول سے رابطے میں رہتے ہوئے نیویگیشن نظام میں خرابی کی اطلاع دی کچھ ہی دیر بعد طیارے کی بلندی میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا اور پھر ریڈار سے اس کا رابطہ منقطع ہوگیا بعد ازاں بحیرۂ عرب میں ملبہ مل گیا اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیافلائٹ ٹریکنگ کے ابتدائی ڈیٹا کے مطابق طیارہ چند لمحوں کے دوران اچانک نیچے آیا پھر دوبارہ کچھ بلندی حاصل کی اور اس کے بعد تیزی سے نیچے گرتا ہوا ریڈار سے غائب ہوگیا۔
اب آتے ہیں ان سازشی نظریات کی طرف جنہوں نے اس حادثے کو سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ موضوعِ بحث بنایا۔پہلا نظریہ یہ سامنے آیا کہ طیارہ جی پی ایس جیمنگ یا الیکٹرانک وارفیئر کا شکار ہوا۔ اس دعوے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ میں بعض علاقوں میں جی پی ایس مداخلت کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور یہ وقت وہی ہے جب امریکہ نے ایران ساحلی علاقوں پر حملہ کیا تاہم اب تک کسی سرکاری ادارے فضائی تحقیقاتی ٹیم یا ایئرلائن نے یہ نہیں کہا کہ اس حادثے کی وجہ جی پی ایس جیمنگ تھی صرف نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع ملنے سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ بیرونی مداخلت ہوئی تھی۔ اس امکان کی تصدیق یا تردید تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کا ڈیٹا حتمی تحقیق کا متبادل نہیں ہوتا۔ اصل حقیقت کا تعین صرف فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر، کاک پٹ وائس ریکارڈر، ملبے کے معائنے اور تکنیکی تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
دوسرا دعویٰ یہ کیا گیا کہ طیارہ حساس فوجی یا خفیہ سامان لے جا رہا تھا اور اسی وجہ سے اسے نشانہ بنایا گیا لیکن اب تک کوئی سرکاری دستاویزیا تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ ایسی بات کی تصدیق نہیں کرتی۔ کارگو پروازوں میں مختلف قسم کا سامان لے جایا جاتا ہے لیکن جب تک حکام خود کوئی تفصیل جاری نہ کریں کسی مخصوص کارگو کے بارے میں دعویٰ کرنا صرف قیاس آرائی شمار ہوگا تیسرا نظریہ یہ تھا کہ حادثے کا تعلق خطے میں جاری کشیدگی سے ہے بعض لوگوں نے اسے ایران، اسرائیل، امریکہ یا خلیجی صورتحال سے جوڑنے کی کوشش کی لیکن اب تک ایسی کوئی شہادت سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ حادثہ کسی فوجی کارروائی، میزائل حملے یا بیرونی مداخلت کا نتیجہ تھا۔ فضائی حادثات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ابتدائی گھنٹوں میں اکثر ایسے دعوے سامنے آتے ہیں مگر بعد کی تحقیقات بالکل مختلف نتائج دیتی ہیں۔
اب ذرا تکنیکی پہلو کو بھی سمجھتے ہیں ہوا بازی کے ماہرین کے مطابق کسی بھی طیارے میں اچانک بلندی میں غیر معمولی تبدیلی کئی وجوہات کی بنا پر آ سکتی ہے۔ اس میں پرواز کے کنٹرول سسٹم کی خرابی، انجن کا مسئلہ، کارگو کا غیر متوازن ہونا، موسم، انسانی غلطی یا متعدد عوامل کا مجموعہ شامل ہو سکتا ہے۔ اس مرحلے پر کسی ایک وجہ کو حتمی قرار دینا پیشہ ورانہ طور پر درست نہیں ہوگا۔تحقیقات کا عمل عام طور پر کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ملبہ اکٹھا کیا جاتا ہے، پھر بلیک باکس تلاش کیے جاتے ہیں اس کے بعد فلائٹ ڈیٹا اور کاک پٹ میں ہونے والی گفتگو کا تجزیہ کیا جاتا ہے اس کے ساتھ موسم، طیارے کی دیکھ بھال کا ریکارڈ، عملے کی تربیت، ایئر ٹریفک کنٹرول کی ریکارڈنگ اور دیگر شواہد بھی دیکھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی فضائی حادثے کی حتمی رپورٹ آنے میں کئی ماہ، اور بعض اوقات ایک سال یا اس سے زیادہ بھی لگ سکتا ہے۔
پاکستان کی فضائی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ماضی میں بھی کئی حادثات کے فوراً بعد مختلف افواہیں سامنے آئی تھیں لیکن بعد میں سرکاری تحقیقات نے ان میں سے بہت سی باتوں کو غلط ثابت کیا۔ اسی لیے دنیا بھر میں ہوا بازی کے ماہرین ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ابتدائی اطلاعات کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ متعلقہ پاکستانی اداروں کے ساتھ بین الاقوامی ماہرین بھی تحقیقات میں معاونت کر رہے ہیں۔ حادثے کی اصل وجہ ابھی تک سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی۔اس وقت کی تصدیق شدہ معلومات صرف اتنی ہیں کہ طیارے نے نیویگیشن نظام میں خرابی کی اطلاع دی ریڈار سے رابطہ منقطع ہوا بحیرۂ عرب میں ملبہ ملاہے
آخر میں سب سے اہم بات ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ہر ویڈیو، ہر آڈیو اور ہر پوسٹ حقیقت نہیں ہوتی۔ ایک فضائی حادثہ انسانی جانوں کا سانحہ ہوتا ہے، اسے سنسنی خیزی یا بغیر ثبوت کے سازشی نظریات سے جوڑنے کے بجائے تحقیقات کے مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔ اگر بعد میں کسی بھی نظریے کے حق میں شواہد ملتے ہیں تو وہ تحقیقاتی رپورٹ کا حصہ بن جائیں گے، لیکن اس وقت تک ذمہ دارانہ رویہ یہی ہے کہ صرف تصدیق شدہ معلومات پر اعتماد کیا جائے۔یہ بات تو اس وقت ہی سامنے آئے گی جب تحقیقات سے معلوم ہوگا کہ یہ محض ایک تکنیکی حادثہ تھا یا کسی فوجی مداخلت کا نتیجہ تھا