امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایسے رضاکاروں سے درخواستیں طلب کی ہیں جو تقریباً ایک سال مریخ اور چاند جیسے مصنوعی ماحول میں گزارنے کے خواہشمند ہوں۔اس نئے ایک سالہ تحقیقی پروگرام کومون اینڈ مارس ایکسپلوریشن اینالاگ کا نام دیا گیا ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے حاصل ہونے والی معلومات مستقبل میں دوسرے سیاروں کی سطح پر کام کرنے والے خلا بازوں کو محفوظ اور تیار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ناسا کے مطابق، منتخب رضاکار امریکی شہر ہیوسٹن میں واقع جانسن اسپیس سینٹر میں تقریباً ایک سال گزاریں گے۔ انہیں محدود اور الگ تھلگ ماحول میں رکھا جائے گا جہاں حالات کو مستقبل میں چاند اور مریخ کے انسانی مشنز سے ملتا جلتا بنانے کی کوشش کی جائے گی۔مشن کے لیے مخصوص جسمانی اور تعلیمی معیار پر پورا اترنے والے افراد درخواست دے سکتے ہیں۔ امیدواروں کو کئی روز پر مشتمل انتخابی عمل سے گزرنا ہوگا جبکہ ناسا ان کے جسمانی اور نفسیاتی جائزے بھی کرے گا۔ ادارہ ایسے افراد کی تلاش میں ہے جو اس منفرد تجربے میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہوں اور مستقبل کے چاند اور مریخ مشنز کی تیاری میں حصہ ڈالنا چاہتے ہوں۔تجربے کے دوران ہیرا کے مصنوعی ماحول کو خلائی جہاز جبکہ چیپیا کے مسکن کو سیارے پر قائم ایک بیس کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ رضاکار کئی ماہ کے خلائی سفر جیسے حالات میں محدود ماحول کے اندر رہیں گے اور روزمرہ کے مختلف مشن انجام دیں گے۔دلچسپی رکھنے والے افراد کو ناسا کے ”اینالاگز ریکروٹنگ“ پیج پر جا کر ناسا کی فراہم کردہ ہدایات کے مطابق رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا ہوگا یعنی خواہشمند افراد ناسا کے مون اینڈ مارس ایکسپلوریشن اینالاگ مشن کے لیے ’آن لائن‘ درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ ابتدائی طور پر اہل قرار پانے والے امیدواروں کو کئی روزہ انتخابی عمل سے گزرنا ہوگا اور ناسا کے جسمانی و نفسیاتی معائنے بھی پاس کرنا ہوں گے۔ ناسا مستقبل کے خلائی مشنز میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی، آلات اور طریقہ کار کو بھی زمین پر آزمانا چاہتا ہے، تاکہ چاند اور مریخ پر جانے والے خلا بازوں کو ممکنہ مشکلات کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے۔